باب ۱

شوق دل تو یہ تھا کے ستاروں سے ہم کلام ہوتے

از کشف ذوالفقار · 10 September 2026

Text100%
Airy2.2

۱ باب

کبھی ایسا ہوا ہے کوئی ایک لمحہ آپ کی زندگی میں ایسا آیا ہو جس نے آپکی زندگی بدل کے رکھ دی ہو ۔ آپ کا نظریہ آپ کی سوچ سب کچھ ایک لحظہ میں تبدیل ہو گیا ہو- یہی لمحہ ہارون کے لیے کب آیا اور کب اس کی حیات تبدیل کر گیا اس چیز کا اندازہ اسے آج ہو رہا تھا۔ ائیرپورٹ پہ کھڑے ایک دفعہ پھر اس نے اپنے بابا کو پیچھے مڑ کے دیکھا تھا، جنہوں نے کتنی جنگیں لڑ کر اس کو اس مقام تک پہنچایا تھا۔ آنے والی زندگی میں اب کیا بچا تھا، کیا اس کے لیے رہ گیا تھا اس چیز سے اسے سروقار نہیں تھا ، زندگیاب صرف اور صرف ایک مقصد کے لئے جینی تھی۔

لاہور ائیرپورٹ پر صبح ۴ بجے افرا تفری کا عالم تھا، لوگوں کے ہجوم میں دھکّم پھیل ہر طرف تھی، ہر کسی کو اپنی پیارے کو ملنے کی جلدی تھی، اور جن کے پیارے ان سے دور جا رہے ہوتے وہ اپنی نام آنکھیں چھپائے ایک آخری جھلک دل رہے ہوتے جیسے اندر اترنا چاہتے ہوں وہ تصویر۔

ٹھیک ہے بابا اللہ پہ امان کہہ کے بابا کو گلے ملتے اس نے ایک آخری نظر آس پاس دوڑائی یجیسے آخری نظر ڈال رہا ہو۔ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا وہ پاکستان ان حالات میں چھوڑے گا، اس کو اس ملک اور اس کی مکینوں سے کوئی سروکار نہیں تھا مگر پھر بھی ایسے ملک بدر ہونے کا تو تصور نہیں کیا تھا اس نے۔ ماحول میں عجیب سا سناٹا چھایا ہوا تھا یا شاید اس کے اندرونی جذبات اس پر حاوی ہو رہے تھے۔آپ کسی جگہ سے جیتنے نالاں ہو، جتنی ہی تنگ ہوں اس کو چھوڑتے ہوئے تکلیف تو پھر بھی ہوتی ہے۔

ٹھیک ہے بچیا ادھر میرا دوست ہے وہ تمہیں لے لے گا، باقی میں تم کو کال پہ بتاوں گا دیر نہیں کرنی چاہیے ۔ بابا نے اس کے سر کو تھپتھپاتے ہوئے کہا تھا۔ پچھلے چند سال سے وہ بس اسی لمحے کی دعائیں کر رہے تھے جو آ خر کار آ چکاتھا ہارون کو اس ملک سے بھیجنے کے بعد اب شاید سب واپس نارمل ہونے لگے یہی خواہش باقی تھی ۔ اپنے بیٹے کو اس ملک سے بھیجنے کے لئے جو تگ و دو انہوں نے اس عمر میں کی تھی جب انکی دوسری اولادیں بھی ان سے رخ پھیر چکی تھیں یہ بس وہی جانتے تھے۔

بچے جو اصلیت ہے یہ صرف ہم جانتے ہیں یہ ادھر حیات چاچا کو بھی بتانی کی ضرورت نہیں ہیں، بات کدھر سے کدھر پہنچ جائے اس سے بہتر ہے کے ہم ماضی کو خود تک ہی محدود رکھیں، اور کوئی ایسی حرکت نا کرنا جو دوبارہ تمہیں انکے چنگل میں لے آئے ۔ میری بات باندھ لو اپنے ساتھ۔۔وہ اب اسے تنبیہ کر رہے تھے۔ ماضی کی سائے ان پر لٹکتے رہیں گے یہ تو وہ جانتے تھے مگر پھر بھی اپنی طرف سے وہ حفاظتی اقدام سارے کر رہے تھے۔

ازبک ائرلائن سے صبح ۶ بجے کی پرواز نے ہارون کو ازبکستان پہنچانا تھا جہاں سے ۶ گھنٹے کے بعد اس نے والینسیا (سپین) اترنا تھا۔ یہ اس کی زندگی کاپہلا بین ال اقوامی سفر تھا اور نجانے اپنے آغوش میں کیا سمائے بیٹھا تھا یہ تو وقت ہی بتائے گا،مگر ہارون زمان خان یہ جانتا تھا کے اب واپس وہ ایک ہی صورت آ پائیگا۔بدلے کی جو آگ اس کے اندر جل رہی تھی اس کو ایک پال بھی چین سے گزارنے نہیں دے رہی تھی، وہ سب سے پل پل کا حساب ضرور لے گا یہ اس کا خود سے وعدہ تھا۔

———————————————————————————————————

حال

بینیڈورم ۲۰۲۵ / ملاقات سے چند گھنٹے قبل

سمندر کے کنارے ٹہلتے ہوئے آج وہ اپنی چوائسس کو پھر سے نل ہوتا دیکھ رہی تھی، بیگی جینز پر ڈھیلی ڈھالی لمبے بازو والی ٹی شرٹ جس پر اس نے بالوں میں جوڑا کر رکھا تھا گلے میں سکارف پہنے صبح کے 7 بجے سپین کے صوبہ الکنٹی کے ایک چھوٹے سے شہر بینیدورم میں ماہ نورحیات احمد آج اپنی ساری حیات کا زائچہ لیے کسی سوالی کی طرح ساحل سمندر پہ کھڑی تھی۔ صبح خیزی کی یہ عادت تو اس کی بچپن سے تھی، فجر کے بعد ساحل پہ چہل قدمی کرنا، آتے جاتے لوگوں کو دیکھنا اس کا پسندیدہ ترین مشغلہ تھا۔ یہ مشغلہ کب فرار کی شکل اختیار کر گیامعلوم نا تھا۔اسکی ہلکی بھوری آنکھوں میں اس وقت غم کا جہاں سمایا ہوا تھا، ہر تھوڑی دیر بعد وہ اپنی کہنی سے آنسو صاف کرتی پھر کچھ یاد کرنے پر آنکھیں میچ لیتی،جیسے جو اس کی دل یو دماغ میں چل رہا تھا اس سے نکلنا چاہتی ہو۔بینیڈورم کے اس بیچ پرصبح کے اوقات میں اموماً بزرگ نکلے ہوئے ہوتے تھے ساحل سمندر کی اوپر ہی ایک سڑک ہے جو کہ ہر وقت لوگوں سے بھری پڑی ہوتی ، کوئی کہیں بیٹھ کر کسی بار میں کافی کے ساتھ خبریں سن رہا ہوتا ، کوئی اپنے کتوں کے ساتھ چہل قدمی کے لیے نکلا ہوتا اور کوئی اپنا سٹیمنا بوسٹ کرنے کے لیے سائکل چلا رہا ہوتا یا رننگ کر رہا ہوتاسائکلنگ کا ٹریک فوٹ پاتھ کی ساتھ کویڈ کی بعد سے بن گیا تھا جہاں اب ماڈرن بائیکس یعنی e bikes بھی چلا کرتی تھیں۔ ماہ نور کو ہجوم سے تو کوفت ہوتی تھی لیکن یہ جگہ سارے شہر میں سے اسکا فیوریٹ سپاٹ تھی، یہاں سڑک ختم ہوتی تھی اور ساحل دو حصوں میں تقسیم ہوتا تھا۔ levante اور poniente یہ دونوں beaches کی درمیاں ایک خوبصورت پتھروں والی جگہ آتی تھی،اسے ریت سے شدید کوفت ہوتی تھی تو وہ اُس پتھریلی جگہ پر آ جایاکرتی تھی ۔آج بھی وہ انہی پتھروں پر گم سم بیٹھی تھی اسے سوچنا تھا اب آگے اسے کیا کرنا ہے ۔

اسی وقت ہی ایک مخصوص آئی فون کے میسج کی ٹون بجتی ہے پاس پتھر پر پڑےماہ نور کے فون کی سکرین جگمگاتی ہے جس پہ مسلم پرو کی طرف سے ایک میسج آیا تھا، یہ قرآن کی آیات کا ڈیلی ریمائنڈر تھا۰ آج ۱۰ ذِلحج تھی یعنی آج عیدتھی اور اسےاب احساس ہو رہا تھا۔اس نوٹیفکیشن نے یادوں کی ایک نئی کھڑکی کھول کراسے واپس بچپن میں بھیج دیا تھا۔ کبھی وہ ماما کے ساتھ فرائیڈ ثویاں بنواتی تھی، وہ لوگ عید والی دن ساحل پر کبھی پکنک کرتے کبھی امی ابو اور وہ یہاں سن سیٹ دیکھنے آتے تب شاید وہ خود ۸/۹ برس کی تھی۔کاش انسان ایسے لمحوں کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر سکتا

آج اُسے امی کو دیکھنے بھی جانا ہے ۔ ہر عید کو اور عام روٹین میں ہر ہفتی نا سہی ہر دو ہفتے بعد وہ امی سے ضرور ملنے جاتی تھی،قبرستان سے اب اسے ڈر نہیں لگتا تھا بلکہ اب تو اسکی ماں کا گھر اُسے عزیز تھا۔

———————————————————————————————————

پشاور، پاکستان

۲۰۲۰/ کووڈ سے ۲ ماہ پہلے

کھلے سے اینٹوں سے آمیز سہن میں، جہاں آس پاس بہت درخت لگے تھے وہ ایک آم کے درخت کی نیچے چارپائی رکھے بیٹھا تھا ڈھلتی دھوپ میں اُسکا عکس اس سے دوگناہ دکھائی دے رہا تھا چارپائی کے اوپر دونوں پاؤں کر کے سامنے ٹرے میں سے روٹی لیتے ہوئے آج بھی وہ حسب معمول فون پر ہی مصروف دکھائی دے رہا تھا اور دفعتاً مسکرا رہا تھا، زرمینہ نگار بڑے غور سے اس کے چہرے کی اس مسکراہٹ کو دیکھ رہی تھیں جو انہیں بہت مشکوق کر رہی تھی، درمیاں میں ہی حسب معمول نگاہ اپنی بہوؤں پر بھی ڈالتیں جو دور رسوئی میں کھانا بنانے میں مصروف تھیں

ہارون ہلکے بھورے بال کبھی ہاتھ سے سیٹ کرتا پھر سکرین کی طرف متوجہ ہو جاتا،اسکی موٹی آنکھوں میں ایک خاص قسم کی سختی تھی،جو نرم کبھی کبھار ہی پڑتیں۔

یہ پہلی دفع تھا کے اسے کوئی لڑکی اتنا مبہوت کر چکی ہو ورنایسے چکروں میں پڑنا تو وہ اپنی ذات کی توہین سمجھتا تھا، بلکہ جو حالات اسکے ۴ بھائیوں کے شادی کے بعد چل رہے تھے بہتر یہی تھا وہ اس سب سے دور رہتا۔

تم نے ایڈالین بومن دیکھی ہے۔۔۔نیا دن نئی فلم۔۔ ہارون اور فلموں کا بڑا گہرا تعلق تھا اور بقول اسکے فلموں کو اس سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھا۔ وہ گھنٹوں GOD FATHER کی تعریفیں کر سکتا تھا اس کی نظر میں AL PACINO سے بڑا فنکار پیدا ہی نہیں ہوا تھالیکن اس کے برعکس ماہ نور کو صرف کتابوں میں دلچسپی تھی

خصوصاً اردو کیونکہ یہ شوق اس نے باپ سے ورثہ میں لیا تھا۔۔۔ماہ نور نے زندگی میں گن کر ۵ موویز دیکھی ہونگی اور اس نے ۵۰۰ سے زیادہ ہی ۔موویز ہارون کے لیے وہ معنی رکھتی تھیں جو ماہ نور کے لئے کتابیں۔۔ ان دونوں کے بہترین ساتھی مختلف سہی ان میں ہم آہنگی بلا کی تھی ۔

نہیں۔ ماہ نور نے ہمیشہ کی طرح انکار کیا تھا۔

تم جانتے ہو میں زیادہ موویز نہیں دیکھتی بلکہ میں نے تو کب سے تمہیں کہا ہوا گاڈ فادر دیکھوں گی مگر وہ بھی نہیں دیکھ سکی۔ آج کل تو مجھے کتابیں پڑھنے کی فرصت بھی نہیں۔ جواب موصول ہوا تھا

تم دیکھنا بالکل تمہارے جیسی ہے اس میں جو لڑکی ہے نا ایڈالین بومن ۔ہارون نے لکھ کر بھیجا ساتھ ہی فوراً اٹھ کھڑا ہوا،اسکا دیہان بیٹری پر تو ابھی پڑا تھا جو ۱ ٪ رہ گئی تھی

کیا مطلب میرے جیسی ہے، ماہ نور حیران ہوئی۔

یار میرا مطلب تھا سوفسٹیکیڈ ڈیسنٹ اور میچور اور تمہاری طر ح ہی پوشیدہ سی اور پراسرار سی بھی اس نے ایک ریڈ ہارٹ ایموجی کی ساتھ یہ ٹیکسٹ بھیجا تھا جس نے ماہ نور کوتھوڑا سا پزل کر دیا تھا

ماہ نور چیٹپر ریپلائی کرنے کے بجائے اب ان کی چیٹ سکرول کر رہی تھی جو پچھلے کچھ دنوں سے لگاتار ہر روز کچھ گھنٹوں پر مُبنی تھی ۔

یہ تعریف تھی یا برائی اسنے ٹائپ کر کے سینڈ کیا۔۔۔صوفہ پر وہ ٹانگیں سیدھی کر کے بیٹھی تھی کہ اچانک سے اسکو نوٹیفکیشن شوٹر بار پر نظر آیا۔

تمہیں لگتا ہے تمہاری برائی کر سکتا ہوں میں۔یہ پڑھ کراس کا دل چاہا کے پوچھے کیا کیا اچھائی ہے اس میں، آخر اپنی تعریف کیسے اچھی نہیں لگتی، مگر اب وہ اتنی بھی فرینک نہیں تھی۔

کر بھی سکتے ہو پرفیکٹ تو اب کوئی بھی نہیں ہوتا اس نے ایک سمائلی کی ساتھ ریپلائی بھیجا تھا humble behaviour you know۔۔

وہ بات کو طول دینا نہیں چاہتی تھی نا وہ یہ چاہتی تھی کی وہ دونوں اس حد تک ایک دوسرے کی قریب ہوں ، بلکہ اسکا ارادہ تو اتنی بات چیت کا سرے سے تھا ہی نہیں وہ تو بس اسکو دیکھنا اور پرکھنا چاہتی تھی پھر بھی کبھی کبھی ایسئ باتیں کر کی وہ اس کو الجھن میں ڈال دیتا تھا جو محض تجسّس کی خاطر وہ جاننا چاہتی تھی اب خود ہی اپنے ارادوں سے مُکر رہی تھی

ماہ نور کو علم تھا کے وہ اس کی بہت عزت کرتا ہےمگر اس کا فیمیل ہنچ اُسےیہ بھی کہہ رہا تھا کے اب بات صرف دوستی کی نہیں رہی،خواتین میں یہ کہیں ان بیلٹ سسٹم ہے جو انکو آ گاہ کر دیتا ہےکسی بھی مرد کی نیت سے، اس کی نظر سے، اس کے ارادوں سے، اس کی محبت اور ہتاکہ اس کی نفرت سے بھی۔

ماہ نور اور وہ اس نیلی ایپ پر ایک ہی گروپ میں تھے پاکستان یوتھ کے نام سے۔وہاں وہ ملکی حالات پر تبصرہ کرتے، انٹرنیشنل پولیٹیکس پر اوراپنا اپنا نقطہ نظر پیش کرتے بعض لوگ تو css کی تیاری میں مدد کی لئے جوائن کیا کرتے تھے۔بہر حال آج ماہ نور نے خصوصاً میسیج کیا تھا اسکی ACCA کی کلاسز آج سے شروع ہو رہیں تھیں ۔ ماہ نور البتہ جانتی تھی جیسا اس کا مزاج تھا اور پڑھائی میں جتنا غیر دلچسپ تھا وہ زیادہ پرجوش نہیں ہوگا۔

ہارون کی اپنی ہی سوچ اورمنطق تھی سیاست کو لے کر جو کہ اسے اکثر پریشان کرتی تھی۔ بلکہ وہ تو اس کو اکثر کہا کرتی تھی کی تم مجھے اس دن یاد کرو گے جب تمہاری حرکتوں کے باعث تمہارے گھر کی سامنے کالا vigo کھڑا ہوگا۔

میسیج کی ٹون سےاب وہ ماضی سے حال میں واپس آ چکی تھی

ہاں بس ٹھیک تھا، میرے تو سر سے گزر گیا سب پتہ نہیں کیا پڑھایا تم سناؤ کیسی جا رہی آجکل جب بھی انکی گفتگو ہوتی تو پتہ نہیں کیوں ان دونوں کی casual چیزوں پر کبھی نہیں ہوتی تھی،ہوتی تو ملکی امور پر اسکی حبل وطنی پر یا ہارون کی وطن پرستی پر۔ capitalism اور communism پر۔ وہ دونوں ہی دنیاوی سیاست سے بخوبی واقف تھے،لیکن ہارون تاریخ کااس سے بھی اچھا علم رکھتا تھا۔ ایسی لئے وہ بحث او مباحثے میں اکثر مات کھا جاتی تھی۔

بس آج کل مصروفیت یونیورسٹی کی وجہ سے ہے، نئی نئی جوائن کی ہے نا،تو بس ادھر ہی سارا دن گزر جاتا ہے دوسرے شہر ہے تو آنے جانے میں بھی وقت لگ جاتا ہے بس ادھر ہی مصروف ماہ نور نے وضاحت دی۔۔۔۔

ہارون کھانا بن گیا ہے اب تو آ جاؤ دسترخوان پے، چھوڑ دو اس فون کی جان پتہ نہیں کس ماں سے سارا دن لگے رہتے ہو زرمینہ نگار اب غصے میں اونچی اونچی آواز میں سب کو کچھ نا کچھ کہہ رہی تھیں

اچھا یارا میں چلتا ہوں مورې بلا رہی ہے، پھر ہوتی ہے بات ۔ہارون نے اللّٰہ پا امان کے بعد بائے کا ایموجی بھیج کر فون رکھ دیا

آخر مورې کو آج کل اس پر اتنا غصہ کیوں آرہا تھا، آج وہ ان سے ضرور پوچھے گا۔ سات سمندر پار ماہ نور بھی بہت ساری سوچوں کے درمیاں گھری ہوئی تھی ۔ اس کا دل اور دماغ دونوں آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ دل کہتا تھا جو چل رہا ہے جیسے چل رہا ہے چلنے دو،دماغ کہتا تھا کے کسی بھی رشتے کی بنیاد اگر جھوٹ پر ہو تو وہ چاہے جتنا ہی مضبوط ہو کوئی معنی نہیں رکھتاخصوصاً حقیقت کھلنے کے بعد۔۔۔

اسے اس معاملے کو اب ختم کرناتھاکیونکہ وہ ایسا بہت کچھ جانتی تھی جو ہارون کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔

زندگی میں بعض دفع ہمیں کچھ فیصلے اپنی مرضی کی برخلاف کرنے پڑتے ہیں بس یہ یقین رکھتے ہوئے کے وہ صحیح ہیں۔ ماہ نور نے بھی فیصلہ کر لیا تھا اور وہی کیا تھا جو اس کو صحیح لگ رہا تھا، وہ جو غلط کر چکی تھی اس کی تصحیح تو ممکن نا تھی مگر آنے والے کل میں وہ بہت ساری غلطیاں دہرانا نہیں چاہتی تھی اسے بس یہ سوچنا تھا کے وہ ہارون کو سچ بتا کر جائے یا یونہی اس سے دور چلی جائے ۔———————————————————————————————————

بینیڈورم ۲۰۲۰

جنوری//

بیٹا مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی ۔ حیات صاحب آج معمول سے زیادہ سیریس نظر آ رہے تھے ورنہ عموماً وہ تمہید باندھنے کے عادی نہیں تھے۔حیات احمد ایک کم گو انسان تھے وہ نا زیادہ باتیں کرتے نا سنتے تھے، الفاظ کو ہمیشہ ناپ تول کر استعمال کرتے۔وہ سخت نہیں تھے، اور سخت باپ تو بالکل نہیں، بس وہ فضول اور من گھڑت باتوں سے پرہیز کرتے۔ ان کی یہ عادت خیر سے ماہ نور میں تو نہیں تھی۔ وہ باپ بیٹی پچھلے ۵ سالوں سے اکیلے اس ٹو بیڈروم اپارٹمنٹ میں رہتے تھے۔ حیات صاحب صبح کو کام پر جاتے اور ۲/۳ بجے ہی آتے، تب سے لے کر شام تک وہ آرام کرتے اور شام سے رات تک وہ نیوز یا کوئی Tv شو دیکھتے اور تبصرہ کرتے۔ وہ باپ بیٹی دونوں نے یہ وقت ایک دوسرے کے لئے مختص کر رکھا تھا۔

ماہ نور کو آج صبح سے ہی لگ رہا تھا جیسے ان کے دماغ میں کوئی بات ہے، اور پُھپو کی کال نے اس کے اندازے کو درست ثابت کر دیا تھا جی ابو بتائیں کیا بات ہے۔ ماہ نور جانتی تھی وہ کیا کہنے والے تھے پُھپّو بہت دفعہ اس سے بھی ڈھکے چھپے الفاظ میں اس سے اپنے ارادے اظہار کر چکی تھیں ۔

پُھپّو آپ کی کی کال آئی تھی آج، بات تو وہ بہر حال اس بارے میں ہمیشہ سے کرتی آ رہی ہیں لیکن آج انہونے مجھ سے ۲ ٹوک بات کی ہے آپ کے اور عامر کے رشتے کے بارے میں۔

میں اسی سلسلے میں بات کرنا چاہتا ہوں آپ سے بیٹا ۔ پریشان ہونے والی بات نہیں ، ابھی بس بات ہی تہ ہوگی وہ بھی اگر آپ نے حامی بھری تو اور میں ان سے یہ بات کر چکا ہوں کے شادی کی صورت میں عامر کو ہمارے ساتھ ادھر رہنا ہو گا۔ لیکن میرے لئے سب سے ضروری ہے آپ کی کیا پسندیدگی ہے اس بارے میں۔ باقی سب چیزیں بعد میں تہ ہو سکتی ہیں۔

حیات صاحب نے ہمیشہ اپنی بیٹی کی خواہش کو مدنظر رکھا تھا اب کیسے ہو سکتا تھا کہ اسکی زندگی کے سب سے بڑے فیصلے کی دفعہ اس کی رضامندی اس کی خوشی نا پوچھتے۔ ان کے خاندان میں تو لڑکیوں کو یونیورسٹی بھیجنے کا رواج نہیں تھا پھر بھی سب کی مرضی کی خلاف انہوں نے ماہ نور کو یونیورسٹی بھیجا تھا وہ چاہتے تھے کے وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو ۔ بلکہ وہ ہمیشہ اسے موٹیویٹ کرتے، کے تعلیم سے بہتر کچھ نہیں اور ایک ہنر یا ڈگری تو ضرور ہونا چاہیے کسی بھی بچے بچی کے پاس آج کے دور میں۔

عامر اچھا لڑکا ہے bba کر رہا ہے، خاندان تو پھر ہمارا ایک ہی ہے ہمارا اپنا خون ہے۔ کل کو ویسے بھی ادھر آ کر یہ سب سنبھالنے میں مدد کریگا وہ ۔ مجھے تو اس رشتے میں کوئی خامی نہیں دکھتی۔ ۱۰ ایکڑ زمین آتی ہے اس کے حصے ۔ گھر بھی بس مکمل ہو رہا ہے۔ لڑکا بھی گھر کا ہے پھر بھی اگر کوئی اعتراض ہے تو ضرور بتائیں۔ حیات صاحب بیشک ایک نرم مزاج باپ تھے لیکن نا جانے کیوں اس وقت ان کی باتوں سے ماہ نور کو لگ رہا تھا جیسے اسی فیصلے کا اختیار نہیں دیا گیا بلکہ بس انہوں نے اپنی چیکلسٹ ٹِک آف کر دی تھی اور بس چاہتے تھے کے وہ دستخط کر دے۔

جیسے وہ بھی آپ کو ٹھیک لگے کے متمنی تھے۔

پتہ نہیں ہمارے بڑوں کو کیوں لگتا ہے کے اچھا ہم سفر ہونے کے لئے پیسہ، رتبہ، خاندان صرف یہی کافی ہیں حالانکہ ایک بہت اچھا انسان بھی آپ کے لئے بہترین ہم سفر ثابت ہو یا نا ہو یہ آپکی اس انسان سے ہم آہنگی، مطابقت ، آپکے اور اس کے اہداف، زندگی جینے کا نظریہ سب چیزیں تہ کرتی ہیں۔

جی بابا میں جانتی ہوں، لیکن کسی بھی انسان کا خاندان آج کے دور میں کافی نہیں ہے یہ جاننے کے لئے کے اوہ کس کردار کا حامل ہے۔ بہت ساری چیزوں کو مد نظر رکھ کر ہی یہ فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ ویسے مجھے لگتا نہیں کی اس کی سوچ میرے سے مطابقت رکھتی ہے۔ لیکن میں اس بارے میں سوچونگی، اور کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے میں اس سے بات چیت تو کرنا چاہونگی کے جان سکوں آخر وہ کیسا انسان ہے۔ میں بھی ابھی بیچلرز کر رہی ہوں، مجھے اپنے فیوچر کے بارے میں سوچنا چاہیے، اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہیے شادی یا ایسی کسی بھی چیز سے پہلے میں آپ کے علاوہ کسی پر بھی ڈیپینڈ کرنا نہیں چاہتی۔لیکن اگر آپ کو یہ اچھا پرپوزل لگتا ہے صرف اس بنا پر آپ چاہیں کے میں ہاں کہوں تو ایسے میں نہیں کرونگی میں بتا رہی ہوں آپ کو۔ اس نے باپ کو تنبیہ کی تھی لیکن میں اس بارے میں سوچونگی میں اسکی آئڈز دیکھونگی پھر آپ کو اپنے جواب سے آگاہ کرونگی۔ وہ جانتی تھی کے وہ کوئی بھی فیصلہ اس پر مسلط نہیں کرینگے اور وہ چاہتی تھی کے وہ یہ بات سمجھیں کہ وہ اہل ہے درست فیصلہ کرنے کی خصوصا اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ ۔

اچھا بیٹے انہوں نے بس اتناکہہ کر بات کو ختم کر دیا۔

پاکستان کی ٹکٹ کرواؤں آپ کی فروری کی۔ آنیا کی شادی پر بھی تو شرکت کرنی ہی ہوگی۔ ماہ نور کو یاد آیا تھا کے اس نے ٹریول ایجنٹ کو کال کرنی تھی آج، بر وقت ٹکٹ لینگے تو ہی سستی ملے گی۔ویسے بھی سیزن تھا تو ویسے ہی ضرورت سے زیادہ مہنگی ملنےوالی تھی، اب عین وقت شادی پر کروانی پڑ گئی تو وہ ۱۰۰/۲۰۰ اوپر دھر لے گا۔

ہاں یہ تو ہے ایسا کرو اپنی اور میری کروادو، مارچ ۱۰ تک اس کے بعد جو اُدھرگرمی ہوتی ہے وہ میری برداشت سے باہر ہے۔

حیات صاحب نے رسان سے کہا، آج کل تو ٹکٹس بھی آسمانوں کو ہاتھ لگا رہی ہیں

ٹھیک ہے چلیں میں آج ہی فون کرتی ہوں ذوالقرنین بھائی کو اور ہاں مجھے سحر کا گفٹ لینے جانا تھا کل اسکی سالگرہ ہے نا تو آپ چلیں گے ساتھ میرے صرف سینٹر تک ہی تو جانا ہے آپ کی واک بھی ہو جائیگی۔

نہیں بیٹا تم جاؤ، مجھے تمہارے چاچو کی طرف جانا ہے زمینوں کے معاملات ہیں کچھ وہ دیکھنے ہیں۔ پھر میں کال کر لوں گا اگر باہر ہوئیں تو آئس کریم کھائینگے playa پر۔

جی نہیں، میں کھاوںگی آئس کریم اور آپ مجھے دیکھیں گے کیوں کی آپ کو تو میں میٹھا بالکل نہیں کھانے دے رہی۔

ماہ نور نے ہستے ہوئے کہا بہت دل ہوتا ہے آپ کا چیٹکنگ کرنے کا، بلڈ شوگر دیکھیں ذرا اپنی اور کھانی ہے آئس کریم۔

تم جاؤگی چاچو کی طرف، ادھر سے چلی جانا سینٹر۔ حیات احمد نے پوچھا

نہیں میں نہیں جاؤنگی، شدید کوفت ہوتی ہے مجھے آپ ہی جائیں۔ ماہ نور نے ناک سکوڑ کے کہا

چلو پھر تم چلی جانا سینٹر میں وہیں سے دکان پر جاؤنگا دروازہ لاک کر لو۔

حیات احمد نکالنے کے لئے اٹھ کھڑ ے ہوئے

آج ایک پنچایت بیٹھنی تھی وہ بھی ماہ نور کی لا علمی میں۔

———————————————————————————————————

پشاور

۱۷جنوری ۲۰۲۰ /

معلوم ہے کیا کھایا آج میں نے

کابلی پُلاؤ اس نے جواباً لکھ کر بھیجا تھا، اس کا فیوریٹ تو وہی تھا

نہیں گیس کرو

میں کیسے گیس کروں مجھے کیا پتہ تم نے کیا کھایا ہے۔ وہ جُھلائی

اچھا ہنٹ، تمہارا فیوریٹ۔ ہارون اج اسے تنگ کرنے کے موڈ میں تھا

اس نے حیرانی سے بریانی لکھ کر بھیجا وہ جا نتی تھی کی وہ بریانی کا شوقین تو نہیں تھا بلکہ اس میں جتنے مصالحے ڈلتے ان کے تو وہ سخت خلاف تھا۔

بقول اس کے کھانے میں نمک کالی مرچ اور سبز مرچ ہی کافی ہوتی ہے تو وہ سخت خلاف تھا کے ہم پتہ نہیں اتنی مرچیں کھا کیسے لیتے ہیں

ہاں ایک سٹال ہے مسجد کے نزدیک، ادھر سے کھاتا ہوں میں، دو ہفتے پہلے ہی ٹرائی کی تھی سوچا جانیں تو سہی ایسا کیا ہے جو محترمہ کو اتنی پسند ہے

انکی آج قریباً دو ہفتوں بعد ہی بات ہو رہی تھی، اب وہ آہستہ آہستہ کم بات کرنے لگے تھے

وا ہ چلو تم کھالیا کرو میرے حصے کی بھی ادھر تو سٹال سے ملتی نہیں ۔ اداسی والے ایموجی کے ساتھ اس نے سینڈ کا بٹن دبایا۔

سٹال والی کا کیا مقابلہ آپکے ہاتھ کی سے، سکرین پھر سے جگمگائ تھی اور ماہ نور کی پیٹ میں جو تتلیاں تھیں انکا کوئی ثانی نا تھا۔

وہ جانتا تھا اگر اسکو فخر تھا کسی چیز پر تو وہ اس کے اپنے ہاتھ کی بریانی تھی جو اسکو خود اور دوسروں کو بھی بہت پسند تھی

وہ LOL لکھ کر فون بند کر چکی تھی ۔۔ جتنا اس کا اپنا دل مائل ہوتا اتنا ہی ماہ نور کی جان پر بن آتی، آخر وہ خود ہی کیسے اپنا پلان خراب کر سکتی ہے۔

اس نے ایسا سوچا نہیں تھا جیسا ہو رہا تھا، ہارون سے بات چیت اس نے ایک خاص مقصد کی وجہ سے شروع کی تھی، وہ جاننا چاہتی تھی اس کو، اس کے خاندان کو اور ان کے بیچ تعلق کو جس سے وہ تو نا واقف تھا لیکن ماہ نور کو علم تھا۔

ہارون کا لگاؤ اب اس سے ڈھکا چھپا نہیں تھا لیکن اس کی نظر میں ابھی وہ ایک ٹین تھا جو اس سے اٹیچ ہو گیا تھا۔اس نے سوچا تھا کے اس پلان کو مزید طول نہیں دے گی جو بھی ہوگا وہ بعد میں پتہ کرے گی لیکن کم از کم کسی کے دل کے ساتھ تو نہیں کھیل سکتی یہ تو طے تھا اور وہ جانتی تھی کے ہارون کو کبھی بھی وہ سچ نہیں بتا سکے گی نا اپنی شناخت سے آگاہ کر سکے گی

ہارون کی نظر میں اس نے جو امیج پیش کیا تھا بیشک اسکی شناخت کی علاوہ سب سچ تھا لیکن جب شناخت ہی جھوٹ ہو تو وہ اسکی کسی اور بات پر کیوں ہی یقین کرے گا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Universidad de Alicante کے وسیع و کشادہ کیمپس میں، شعبۂ معاشیات و کاروبار کی عمارت نمبر ۳۱ کے آس پاس کا حصہ دن کے اس وقت بھی طلبہ کی آمدورفت سے بھرا ہوا تھا۔ کہیں کتابیں ہاتھوں میں دبائے طلبہ تیزی سے اپنی کلاسوں کی طرف بڑھ رہے تھے، کہیں چھوٹے چھوٹے گروہ لان کے کنارے بیٹھے گفتگو میں مصروف تھے۔

دور کسی عمارت کے دروازے سے طلبہ کا ایک ہجوم نکلا، چند ایک ہاتھ میں کافی کے کپ لیے تیزی سے گزر گئے، اور ہوا میں سپینش گفتگو کے ٹکڑے بکھرتے رہے۔

عمارت کے سامنے، درختوں کے سائے میں رکھی نشستوں میں سے ایک پر وہ دونوں بیٹھی تھیں آس پاس کا شور موجود تھا، مگر اتنا مدھم کہ ان کی گفتگو اس میں گم نہیں ہوتی تھی۔

پورا کیمپس اپنے معمول کے مطابق چل رہا تھا ۔طلبہ اپنی کلاسوں کو جا رہے تھے ، کہیں سے ہنسی کی آواز آ رہی تھی ، دھوپ پتوں کے درمیان سے زمین پر چھن رہی تھی اور اس سب کے بیچ وہ دونوں بیٹھیں آج پھر اس ایک ہی مدعے پر بحث کر رہی تھیں

ہلکے پیلے رنگ کے سویٹر اور ڈینم جینز میں ملبوس، بلو ڈرائی کیے ہوئے بالوں کو بے فکری سے کندھوں پر بکھرائے، گالوں پر ہلکے سے بلش اور ہونٹوں پر لپ بام کی مدھم سی چمک لیے، وہ اپنے نرم و نازک خدوخال کے ساتھ سحر سے کسی بات پر بحث میں الجھی ہوئی تھی۔

یار تم سمجھو نا میری بات، میں اب کتنی ہی دیر دھوکھے میں رکھ سکتی ہوں کسی انسان کو، جلد یا بدیر وہ حقیقت جان ہی جائیگا اور تب بھی نفرت ہی کرے گا نا مجھ سے، اس سے بہتر نہیں کے ابھی ہی میں اس کی زندگی سے نکل جاؤں۔ ماہ نور کا یہ ایڈوینچر اب وبالِ جان بن چکا تھا اس کے لئے۔

پر تم اسے سچ بتاؤ تو وہ تمہیں معاف بھی کر سکتا ہے۔۔ حجاب والی لڑکی نے اپنی بات کو دہرایا۔

وہ پٹھان ہے، معاف وہ اپنے بھائیوں کو نہیں کرتا مجھے خاک کریگا۔۔ ماہ نور نے ایک ہی رٹ لگائ تھی کے جیسے تیسے وہ اس سے رابطہ منقطع کر دے گی یہی واحد حل ہے

سیج گرین حجاب لیے ساتھ بیٹھی گھنگھریالے بالوں والی لڑکی، جس نے براؤن کارڈیگن کے نیچے سی جگرین شرٹ اور براؤن ٹراؤزر پہن رکھے تھے، اس کا ہاتھ بار بار اپنے بوٹس کی طرف جاتا جیسے بس اتار کر ماہ نور کے سر پہ مارنے والی ہو۔

اس کی بھوری بڑی بڑی آنکھوں میں بے تحاشا غصّہ تھا

سحر انور جو کے ماہ نور کی دیرینہ بچپن کی سہیلی تھی، اس کے ساتھ اِسی یونیورسٹی میں پڑھتی تھی، وہ دونوں بچپن سے ایک ہی شہر ایک ہی بلڈنگ اور ایک ہی سکول میں رہیں تھیں۔

سحر کے خاندان کا پاکستان آنا جانا کم تھا اس کے بابا نے کافی سال پہلے ہی پاکستان سب کچھ سمیٹ کر یہاں ایک چھوٹا سا کاروبار قائم کر لیا تھاسو اب ان کا پاکستان آنا جانا کم ہی ہوتا

UNIVERSIDAD DE ALICANTE سے وہ دونوں اکٹھی ہی بیچلرز کر رہیں تھیں ADE میں۔

بینیدورم سے روزانہ ایلیکینٹے آنا جانا آسان نہیں تھا مگر ماہ نور اپنے ابّا کی وجہ سے ایلیکینٹے منتقل ہو نہیں سکتی تھی اور سحر کا تو اصول ہی سادہ تھا جہاں ماہ نور، وہاں وہ۔

وہ دونوں ابھی ہی HISTORIA ECONOMICA MUNDIAL کی کلاس لے کر فارغ ہوئی تھیں اور اس بینچ پر آ بیٹھیں تھیں جب بات ان کی حسب معمول ماہ نور کے اس ایڈوینچر تک پہنچ گئی تھی ۔

پھر بھی کچھ تو کام انسانوں والا کرو، کسی کی زندگی میں داخل ہونا، ایک اہم حصہ بن جانا پھر بنا کچھ کہے نکل جانا ان کی زندگی سے، اتنا تو وہ پاکستانی سیاستدانوں سے نفرت نہیں کریگا جتنی تم سے۔سحر جانتی تھی وہ یہ سب کچھ کیوں کر رہی تھی مگر پھر بھی اس دفع وہ چاہتی تھی کے ماہ نور فرار کا راستہ اختیار نا کرے بلکہ ہارون کو اپنی وجوہات بتائے باقی جو اس کا فیصلہ ۔

مجھے نہیں لگتا وہ سمجھ پائگا، سری غلطی میری ہے ۔ میں بالفرض سب ٹھیک کر بھی دوں تو بھی کل کو مستقبل نہیں ہے کم از کم ہمارا ساتھ، پھر ابھی ہی یہ سب ختم کر دینا چاہیے مجھے۔

تم بزدلی کر رہی ہو۔ سحر کہے بنا رہ نہیں سکی

جو دل ہے کہو۔ ماہ نور کے لئے واحد حل ایک یہی تھا جس پر وہ عمل کرنے والی تھی

اچھا اس قصے کو چھوڑو، ایک اور TEA بھی ہے۔۔ ماہ نور کو یاد آئی تھی اس کی اور ابّا کی صبح والی گفتگو یاد آئی تھی

کیا سحر نے حیرانگی سے پوچھا

گیس تو کرو نا آخر وہ کیا ہی بات کریں گے مجھ سے ماہ نور نے اس کو مزید الجھن میں ڈالا تھا

کیا انہونے تم سے پھر کہا ہے کے ساتھ css کی تیاری کرو سحر کو یہی بات ہمیشہ سے بہت بری لگتی تھی کے آخر وہ ماہ نور کو واپس پاکستان کیوں بھیجناچاہتے تھے

نہیں بھائی تم چھوڑ دو اس بات کو اب تو ابّا بھی بھول چکے ہیں تم پھر بھی نہیں بھول رہی ابھی انہوں نے مجھ سے کہا ہے کے جو پُھپّو کا بیٹا ہے نا عامر اس کا رشتہ آیا ہے اور ان کو اعتراض نہیں ہے۔ مجھ سے میری رائے مانگ رہے تھے۔ ماہ نور اب ساری کی ساری ایک ٹانگ بینچ پر رکھے سحر کی طرف مڑ چکی تھی، اسکا ردِ عمل وہ دیکھنا چاہتی تھی

سحر تو یک ٹک اس کو دیکھے جا رہی تھی آخر کار اس کی منہ سے نکلا بھی تو یہ کے تم ہاں تو نہیں کہہ بیٹھی۔

اس کو شک تھا کے شاید وہ اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلے بھی اس لئے کربیٹھی ہو کے وہ ابا کو مایوس نہیں کر سکتی ۔

شکر اللّٰہ۔ مجھے تم سے یہ امیدنہیں تھی نوری ویل ڈن، زندگی میں پہلی دفع تم نے نا کہا ہے میں نے تو سوچ لیا تھا کی اب انکل سے مجھے ہی بات کرنی ہوگی تمہارے لئے

سحر اب جدت میں آ چکی تھی

ویسے دیکھا جائے تو میں نے انکار بھی نہیں کیا، میں نے ابا کو کہا میں ان کو سوچ کر بتاؤنگی اور کہا ہے مجھے وقت چاہیے فیصلہ کرنے کے لئے۔

واؤ ، آخر میں کیسے بھول گئی تم ماہ نور حیات نہیں۔۔۔ ماہ نور یس ٹو ایوریون ہو ۔

ماہ نور بینچ پر بیٹھے اب دونوں ٹانگیں مسلسل ہلا رہی تھی، دکھائی دیتا تھا کے وہ بہت نروس تھی

تو اس ہارون کا کیا۔۔سحر نے ساتھ بیٹھی ماہ نور کو یکدم سے جھلایا تھا اس کو اب ہارون کا خیال آیا تھا جس کی سالی وہ دل ہی دل میں بن چکی تھی

وہ کدھر آ گیا اس بات میں ۔ماہ نور نے اسے قمر پر ایک تھپڑ رسید کیا تھا

یار اس کی بات نہیں کرو، ایک تو میں اسکو بہت کم جانتی ہوں وہ بھی سوشیل میڈیا کے ذریعے اور مجھے نہیں لگتاکے ہم میں کچھ کومن بھی ہے سچ پوچھو تو۔

Parece un buen tío, la verdad, pero tampoco puedo decir mucho porque no le conozco lo suficiente como para saber cómo es realmente en persona, ¿sabes? Aunque vamos, por lo que he visto, tiene pinta de ser genial.

(سچ کہوں تو وہ ایک اچھا انسان لگتا ہے، لیکن میں زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتی کیونکہ میں اسے اتنا نہیں جانتی کے یہ بتا سکوں کہ وہ حقیقت میں بھی ویسا ہے کے نہیں، بہر حال جتنا میں نے دیکھا ہے اچھا انسان لگتا ہے ۔۔۔)

لیکن ہر اچھے انسان سے شادی نہیں کی جا سکتی مائی ڈیئر۔۔ اس نے مسکراتے ہوئے سحر کا کاندھا تھپتھپایا تھا

سحر میں اسکو کسی اذیت میں ڈال نہیں سکتی اس لئے مجھے اس سے فاصلہ اختیار کرنا چاہیے جب مستقبل نہیں ہے ساتھ تو فائیدہ نہیں ہے ایسے اس کا وقت اور ایفرٹ کو ضائع کرنے کا۔ ماہ نور نے یہ سب اپنے دل کے پنہاں گوشے میں ایک خواہش سے بھی چھپ کر کہا تھا۔

سحر اسکو دیکھ کی رہ گئی تھی، یہ نہیں تھا کی ماہ نور کو وہ پسند نہیں تھا ،وہ یہ بات جانتی تھی اور یہ بھی جانتی تھی کے شاید اسی میں بہتری تھی اِسی لئے اس نے اسے زیادہ فورس نہیں کیا تھا۔ ماہ نور بھی اس بات کو ہر پہلو سے دیکھ چکی تھی کے شاید کوئی راستہ نکال آئے۔

کم از کم اگلے چند سال مجھے خود کو اسٹیبلش کرنا ہے تا کے میں اپنا بوجھ خود اٹھا سکوں۔ اس نے اپنے شوز کے تسمے بند کرتے کہا ۔

ماہ نور کی بردباری اور میچورٹی سے وہ واقف تھی کے وہ ان لڑکیوں میں سے نہیں تھی جن کا مقصد زندگی میں صرف کسی مرد کی توجہ حاصل کرنا ہو یاں واحد کامیابیmarrying well ہو

چلو انکل کو انکار کر دینا کم از کم اب عامر تمہارے لئے ٹھیک نہیں یہ ہم دونوں جانتے ہیں۔ DENY نہیں کرنا

you like intellect in a guy I know ، اور مجھے ابھی بھی یاد ہے تم جب پاکستان سے واپس آئی تھی اور ہم تب پانچویں جماعت میں تھے تو تم نے مجھ سے آ کر پوچھا تھا کے کیا لڑکیاں حس یا بول نہیں سکتیں میں نے تم سے پوچھا کے یہ کس نے کہا ہے تم سے تو تم نے کہا عامر بھائی نے کہا ہے لڑکیاں ایسے کھی کھی کر کی نہیں ہستیں ۔ سحر کو یہ بات کبھی نہیں بھولی تھی۔

بروایسے انسان سے ایٹ لیسٹ تمہاری شادی کا تصور تو پیدا نہیں ہوتا۔

سحر کو تو جیسے سوچ کر ہی جھرجھری آئی تھی ، وہ کم از کم ایسے ڈفر کے ساتھ ماہ نور کو بیاہنے پر راضی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔ سحر آخر اسکی امّا بھی تو تھی

ویسے تو یار میں سوچتی ہوں کبھی کبھار کے میرے ایریا کے لڑکے مجھے پسند نہیں، خصوصاً یہ لاہوری اور گجراتی لڑکے بلکہ پنجابی لڑکے، اسپینش ویسے ہی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مجھے لگتا ہے میں کنواری ہی مرونگی۔ سحر کی اس بات پر وہ کھلکھلا کر ہنس دی

ویسے ہارون کا بھائی ہے ، سحر نے اس سے پوچھا،بڑے پیار سے

ہاں بڑے ۳ ہیں اس سے اور ایک چھوٹا بھی ہے وہ سیکنڈ لاسٹ ہے،اب اتنا تو جانتی تھی ماہ نور

پھر ٹھیک ہے۔ سحر نے سر سے اشارہ کیا ساتھ۔ ٹھیک ہےجس سے بھی تمہارے شادی ہو اس کا ایک کنوارا بھائی بھی ہونا چاہیے تا کے میں تمہارا پیچھا ادھر بھی نا چھوڑوں۔

سحر یہ بات بچپن سے کہتی تھی کی وہ دونوں دو ٹوئنز سے شادی کرینگی ،اب چونکہ ٹوئنز والا کام زیادہ مشکل لگ رہا تھا تو وہ دو بھائیوں پر بھی رضامند تھی۔

*ٹن… ٹن… ٹن…**

پاس ہی ایک چرچ تھی، جہاں روز ٹھیک دو بجے گھنٹیاں بجتی تھیں۔ اس کے بجنے کا مطلب تو اسے معلوم نہیں تھا، لیکن ماہ نور کے لیے یہ ظہر کی نماز کا ریمائنڈر ہوتا تھا۔

"تم نے وضو کیا ہے؟" ماہ نور نے سحر سے پوچھا۔

"نہیں، صرف وضو، senorita! جائے نماز بھی رکھ آئی تھی میں آڈیٹوریم میں۔ اس وقت وہاں کون سا کوئی ہوگا؟ آرام سے نماز پڑھ لیں گے، سورۂ کہف بھی پڑھ لیں گے۔ پھر تم اپنی دو کلاسز لے لینا، میں لائبریری میں بیٹھ کر اسائنمنٹ بنا لوں گی۔ پانچ بجے والی ٹرین پکڑ لیں گے۔"

ماہ نور نے ایک نظر اپنی گھڑی پر ڈالی، پھر سامنے پھیلے ہوئے کیمپس پر۔

"چلو پھر، اٹھو۔"

سحر نے بے فکری سے اپنے بیگ کی زِپ بند کی اور بینچ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

"تین بجے سے پہلے پہنچنا ہے، ورنہ تمہاری نماز بھی رہ جائے گی اور سورۂ کہف بھی۔“

"میری نماز نہیں رہنے والی، تمہاری وجہ سے میرا صبر ضرور رہنے والا ہے۔“

"اوہ، drama queen!"

ماہ نور نے اسے گھورا اور اپنا بیگ کندھے پر ڈال لیا۔

دونوں بینچوں کے درمیان بنی پتھریلی راہ پر چل پڑیں۔ دوپہر کی دھوپ اب پہلے سے کچھ نرم ہو چکی تھی، کیمپس کے کھلے صحن میں سرد ہواب کچھ زیادہ محسوس ہو رہی تھی۔

آڈیٹوریم کی عمارت کی طرف جاتے ہوئے سحر نے اچانک ماہ نور کا بازو پکڑ کر اسے روک لیا۔

"ایک منٹ۔“

"اب کیا ہوا؟“

“تم نے وضو تو کر لیا تھا نا؟"

ماہ نور نے اسے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے ابھی اسی وقت اسے کیمپس کے بیچ دفن کرنے کا ارادہ ہو۔

"ہاں!"

”پکا؟"

"سحر!"

"اچھا بابا، پوچھ رہی تھی۔ اتنا غصہ کیوں کرتی ہو؟"

ماہ نور نے زیرِ لب کچھ بڑبڑایا اور آگے بڑھ گئی۔

آڈیٹوریم تک پہنچنے کے لیے انہیں مرکزی عمارت کے سامنے سے گزر کر دائیں طرف مڑنا تھا۔ شیشے کے بڑے دروازوں سے اندر آتے ہی باہر کی ہوا نسبتاً کم محسوس ہونے لگی۔ راہداری تقریباً خالی تھی۔ کہیں دور کسی کلاس سے پروفیسر کی مدھم آواز آ رہی تھی اور ان کے قدموں کی آواز چمکدار فرش پر صاف سنائی دے رہی تھی۔

سیڑھیوں کے پاس پہنچ کر سحر نے پھر اسے چھیڑا۔

"ویسے اگر کسی نے پوچھا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں تو؟"

"کہہ دینا نماز پڑھنے۔"

"اور اگر پوچھا کہ دوپہر کے وقت آڈیٹوریم میں نماز کیوں؟"

"تو کہہ دینا تمہیں سوالوں کے جواب دینے کا بہت شوق ہے، خود دے دینا۔“

سحر ہنس پڑی۔

"تمہیں پتا ہے نا، تمہاری یہ shanti ہی ایک دن تمہیں لے ڈوبے گی؟"

"اور تمہاری یہ فضول بکواس ایک دن مجھے تمہیں ڈبونے پر مجبور کر دے گی۔"

وہ دونوں سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر پہنچیں۔ آڈیٹوریم کا دروازہ چند قدم آگے تھا۔

سحر نے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، "بس، اب آرام سے نماز پڑھو۔ میں تب تک باہر۔۔”

وہ رک گئی۔ ماہ نور نے بھی اس کے رکتے ہی سامنے دیکھا۔آڈیٹوریم کے اندر، ان کی جائے نماز کے بالکل پاس، کوئی پہلے ہی کھڑا تھا۔ماہ نور کے قدم وہیں رک گئے۔سحر نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا، پھر سامنے کھڑے Alejandro کو۔

اس کے ہونٹ بے اختیار پھیلنے لگے تھے۔ اس نے فوراً منہ دوسری طرف کر لیا تاکہ ہنسی نہ نکل جائے۔ماہ نور نے اسے گھورا۔

”اب ہنسو گدھوں کی طرح بغیرت ۔"

"میں؟" سحر نے بڑی معصومیت سے کہا، مگر آنکھوں میں شرارت صاف جھلک رہی تھی۔ "میں تو کچھ بھی نہیں کر رہی۔

وہ اپنی ہنسی دبانے کے لیے ہونٹ بھینچتے ہوئے ایک قدم پیچھے ہوئی۔

اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اب اگلے پندرہ منٹ Alejandro ان دونوں کا سر کھائے گا، اور ماہ نور اگلے پندرہ منٹ اسے کوسے گی۔آخر یہ بلا بھی تو سحر ہی نے اس کے سر پر مسلط کی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”Hi…“

معمول کے مطابق اس میسیج نے آج پھر اس کی اسکرین جگمگا دی تھی۔

اتوار ہونے کی وجہ سے آج اس کی آنکھ بھی معمول سے کافی دیر سے، تقریباً دس بجے کھلی تھی۔ نیند میں ڈوبی آنکھوں سے فون اٹھایا تو انسٹاگرام پر ہارون کا میسج پڑا تھا۔ وہی ہارون، جسے وہ پچھلے چند دنوں سے خاصے روکھے پھیکے جواب دے رہی تھی۔ اسے یقین تھا کہ خود ہی ایگو پر لے کر پیچھے ہٹ جائے گا، لیکن محترم نے ہار نہیں مانی تھی۔

”Hi." ماہ نور نے جواباً ٹائپ کیا اور ساتھ ہی بستر پر اٹھ کر بیٹھ گئی۔

اتوار کو اس کی To-do list باقی دنوں کی نسبت ہمیشہ لمبی ہوتی تھی۔ لانڈری، بیچ میں کھانا پکانا، باتھ روم کی صفائی، الماری ترتیب دینا، کپڑے استری کرنا۔۔اور یہ سب اسے سہ پہر سے پہلے نمٹانا تھا، کیونکہ شام کو اس نے سحر کے ساتھ کروز پر جانا تھا۔ Sunset کی کچھ اچھی سی تصویریں لینی تھیں اور سحر کے مطابق اگر وہ وقت پر نہ پہنچیں تو "golden hour" ان دونوں کو معاف نہیں کرے گا۔وہ ابھی فون ایک طرف رکھ کر بستر سے اترنے ہی والی تھی کہ اسکرین دوبارہ جگمگا اٹھی۔

"اٹھ گئیں محترمہ؟“ ماہ نور نے بے اختیار بھنویں سکیڑیں۔

یہ شخص آخر اتنا بے تکلف کب سے ہو گیا تھا؟ وہ چند لمحے اسکرین کو دیکھتی رہی، پھر نہ چاہتے ہوئے بھی جواب ٹائپ کیا۔

"جی، کیا کر رہے ہو؟“ اس نے جان بوجھ کر "جی" لکھا تھا۔ تھوڑا سا تکلف، تھوڑا سا فاصلہ۔ شاید سامنے والے کو اشارہ مل جائے۔

چند ہی سیکنڈ بعد جواب آ گیا۔

"چائے پی رہا ہوں۔“ ماہ نور نے اسکرین کو دیکھا، پھر ایک بار پلکیں جھپکائیں۔

چائے؟ وہ تو چائے کا شوقین نہیں تھا۔

"تم تو چائے کے شوقین نہیں ہو؟“ اس نے فوراً اگلا میسج کیا۔

اس بار جواب آنے میں چند لمحے لگے۔

”ہاں تو کیا ہوا ۔۔آج ویسے ہی امی بنا رہی تھیں تو سوچا میں بھی پی لوں۔ آخر کیا بات ہے اس میں؟"

ماہ نور کے ہونٹوں پر بے اختیار ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔

"آخر کیا بات ہے اس میں؟“ وہ کہنا چاہتا تھا کہ تمہیں اتنی پسند ہے تو کوئی بات تو ہو گی ہی۔

وہ فون ہاتھ میں لیے کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی۔ عجیب بات تھی۔ ہارون پچھلے کچھ ہفتوں سے اس کے ساتھ ایسی ہی چھوٹی چھوٹی باتیں کر رہا تھا۔ کبھی بے وجہ کوئی بات بتا دیتا، کبھی سوال کر لیتا، کبھی ایسے ہی گفتگو کا کوئی سرا پکڑ لیتا۔اور ماہ نور جتنا اسے سمجھنے کی کوشش کرتی، اتنا ہی الجھ جاتی۔

آخر ہارون یہ سب کیوں کر رہا تھا

"تم ویسے چائے ایسے پیتی ہو جیسے چائے نہ ہو، کوئی اور ہی نشہ ہو۔"

اس نے ہنستے ہوئے ایموجی کے ساتھ لکھ کر بھیجا تھا۔

ماہ نور چند لمحے اسکرین کو دیکھتی رہی۔ آخر یہ شخص کچھ بھی بھولتا کیوں نہیں تھا؟ اس کی کوئی پسند، کوئی ناپسند، کوئی چھوٹی سی عادت ، اسے جیسے سب معلوم تھا

اور ایسا بھی نہیں تھا کہ اس نے کبھی باقاعدہ بیٹھ کر اسے اپنی پسند ناپسند کی فہرست بتائی ہو۔

بس اسے وہ باتیں یاد رہتی تھیں جو ماہ نور نے کبھی اپنی اسٹوریز میں بس یونہی شیئر کر دی ہوتیں، یا کسی گروپ کی گفتگو میں بے دھیانی میں کہہ دی ہوتیں۔

ماہ نور نے فون ایک طرف رکھا اور باتھ روم میں آ کر دانت برش کرنے لگی۔

آئینے میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے بھی اس کے ذہن میں وہی سوال گردش کر رہا تھا۔

آخر وہ خود کو اس situation سے کیسے نکالے؟ہارون سے رابطہ بھی قائم رکھے، کسی نہ کسی طرح، اور اس سے دور بھی رہے۔مسئلہ یہ تھا کہ ہارون شاید اس فاصلے کو فاصلے کی طرح لینے والا نہیں تھا۔اور جو کچھ وہ سوچ رہا تھا، وہ تو نا ممکن تھا۔کم از کم ماہ نور خود کو بار بار یہی سمجھاتی تھی۔وہ ہارون سے رابطہ ان چکروں میں پڑنے کے لیے تو نہیں کر رہی تھی۔

تو پھر یہ سب اتنا مشکل کیوں ہوتا جا رہا تھا؟

ان سوچوں میں وہ اس کو ریپلائی کرنا بھول چکی تھی

ماہ نور کا کوئی بھائی یا بہن تو تھا نہیں اور چاچو وغیرہ سب اِسی شہر میں لیکن علیحدہ علیحدہ گھروں میں تھے ۔ بہت کم عمری میں ہی ماہ نور نےاپنے گھر کا بوجھ سنبھال لیا تھا جب اس کی امی بیمار ہوئیں تھیں وہ تقریباً ۸ سال کی تھی اور اس نے تب سے ہی سب کچھ خود کرنا سیکھ لیا تھا، ماں جب کیموتھراپی کی لئے جاتیں تو ان کے آنے تک گھر کی صفائی وغیرہ وہ کر دیا کرتی تھی، برتن دھو دینا، کپڑے دھونے والی مشین لگا دینا تو اس نے تب سیکھ لیا تھا اور باقی سب جب امی اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔

تب شائد وہ ۱۳ برس کی تھی، جب زندگی نے اسکی عزیز ترین ماں کو اس سے واپس لے لیا تھا

امی جب بیمار تھیں تب تو وہ بہت چھوٹی تھی لیکن تب سے ہی وہ صحت کے معاملے میں بہت حساس ہو گئی تھی، باہر کے کھانے سے پرہیز وہ خود نہیں بلکہ ابّا سے بھی کرواتی، میل پرپ یونیورسٹی کی دنوں میں ضروری کرتی کیوں کہ صبح سے لے کر شام تک وہ یونیورسٹی ہوتی تھی اور ابّا کام پے، وہ ان کو فون کر کر کہ یاد دلاتی تھی کی فریج میں مٹر گوشت پڑا ہے اور لنچ کے لئے ، آلو کیمہ پڑا ہے پلیز کھا لیجئیگا۔

آج بھی یہی مینیو زہن میں ترتیب دے کہ وہ نہا کر باتھ روم سے باہر نکل آئی تھی۔ دن کے آغاز میں اگر وہ ٹھنڈے پانی سے نہا کر خود کو تازہ دم نہ کرتی تو اس کی کارکردگی اور یکسوئی، دونوں بری طرح متاثر ہوتی تھیں۔

آج پھر آلو گوشت۔ بینگن کا بھرتا اور دال پالک بنا کر فریز کرنی ہیں ۔۔۔وہ ہمیشہ کوشش کرتی تھی کہ کھانے میں پروٹین ہو اور سبزیاں بھی جتنی ہفتے میں وہ پکا سکتی پکاتی تھی۔۔

وہ کچن کی طرف جانے ہی لگی تھی کہ دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔

ماہ نور رک گئی۔ اتوار کی صبح، اور وہ بھی اتنی جلدی۔۔وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اس وقت کون اس کی صبح حرام کرنے آ سکتا ہے۔ وہ خود کو ذہنی طور پر آنے والی ملاقات کے لیے تیار کر ہی رہی تھی کہ گھنٹی دوبارہ بجنے لگی۔

اور اس بار پہلے سے زیادہ اصرار کے ساتھ۔

"آ رہی ہوں، آنٹی!" اس نے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے ذرا اونچی آواز میں کہا۔

اسے خدشہ تھا کہ اگر وہ دو منٹ اور دیر کرتی تو آنٹی تب تک گھنٹی پر ہاتھ رکھے رکھیں گی اور بھول جائیں گی کہ گھنٹی بجانے کے علاوہ دروازہ کھٹکھٹانے کا بھی کوئی آپشن ہوتا ہے۔

اس نے دروازہ کھولا تو سامنے آنٹی کھڑی تھیں۔

"السلام علیکم، آنٹی! میں بس… ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اٹھی ہوں، ورنہ میں ضرور آپ کی کال اٹینڈ کرتی۔“وہ ان کی صبح صبح کی پانچ مسڈ کالز بالکل نہیں بھولی تھی۔

بس، پانچوں کالز کو رد کرنے کے فوراً بعد اس نے ہارون کی چیٹ کھول لی تھی۔

ایک تو تحریم آنٹی کو بھی پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے ایک اُن کے کام نہیں ختم ہوتے اوپر سے میری جاسوسی کرنے آ جاتی ہیں میں آخر کہاں ہی جاؤنگئ

وعلیکم سلام بیٹا، ابو کہاں ہیں، تحریم پُھپّو کو بس اپنے بھائی/ مامو زاد بھائی/ کی فکر کرنے کی ایکٹنگ میں دلچسپی تھی، آتی تو وہ اسکی رپورٹیں لینی تھیں لیکن بس نام بھائی صاحب کا ہوتا کہ آخر بھائی صاحب کی خیر خبر لینے والا بھی تو کوئی ہونا چاہیے

ابو تو آپ کو معلوم ہیں آج کام پر ہیں ۳ / ۴ تک آئینگے ۔۔

ہم باپ بیٹی کی آمدورفت سے وہ با خوبی واقف تھیں کم از کم بہتر بہانہ ہی گھڑ لیتیں اُس نے دل ہی دل میں سوچا۔

بس وہی آنٹیاں اور باتیں ڈھونڈنے والیں، ہیرا پھیری کرنے والی ان کی عادتیں۔۔ وہ بس دل ہی دل میں کڑ کر رہ گئی

آپ بتائیں ناشتہ کریں گی میں بنانے جا ہی رہی تھی اپنے لئے ۔۔۔ماہ نور نے کچن کا کیبن کھولتے ہوئے انہیں مخاطب کیا تھا ۔ اپنے لیے بنانے لگی تھی تو اُن کو بھی آفر کر دی۔۔ بندہ برا لگتا ہے۔۔۔ان سے اس کے اختلافات اپنی جگہ اور مہمان نوازی اپنی جگہ ۔۔۔۔

ہاں چلو ایک کپ چائے بنا لانا میرے لئے بھی ۔

’’آنٹی، آج آپ رانیا اور عثمان کو نہیں لے کر آئیں؟ وہ دونوں آتے تو رونق ہو جاتی تھوڑی بہت چولہے پر چائے رکھتے ہوئے اس نے کہا۔ رانیا تو تمہارے چاچو ساتھ mercadona گئی

ہے۔ اور عثمان تمہارے چاچو لوگوں کی طرف گیا ہے، کھیلنے۔ میں نے سوچا تم اٹھی ہوگی تو تمہاری اور بھائی صاحب کی خیر خبر ہی لے لوں۔ تم تو ویسے بھی بہت مصروف ہوتی ہو… تم اس دن یاسین پڑھنے بھی نہیں آئیں ‘

وہ اب صوفے پر دونوں پاؤں اوپر کیے، لحاف میں خود کو لپیٹے بیٹھی تھیں۔

وہ آنٹی، اُس دن یونیورسٹی سے دیر ہو گئی تھی، ورنہ میں ضرور آتی۔ اور میری غلطی بھی نہیں تھی اُس دن ابّا نے کہا تھا وہ مجھے پک کر لائیں گے اور وہی لیٹ آئے تھے۔ اُنہیں کچھ سامان بھی لینا تھا، وہاں کسی بڑے اسٹور سے، اسی لیے۔‘‘ ماہ نور نے پتی ڈالتے ہوئے وضاحت دی۔ ’’اب اتنے نیک کام میں کون شامل ہونا نہیں چاہے گا۔

آنٹی رانیا نے کب جانا ہے واپس ۔۔اسے یاد آیا تھا کے رانیا بھی بس چند ماہ کے لئے آئی تھی ریزیڈنٹ کارڈ لینے پھر اس نے واپس جانا تھا میٹرک وہ پاکستان سے کر رہی تھی

رانیا شاید فروری میں جائے جیسے ہی کوئی بندہ ملتا ہے جس کے ساتھ اسے بھیج سکیں ابھی تو بہت چھوٹی ہے نا اکیلے جانے کے لئے اور چاچو تمہارے یا میں جا نہیں سکتے، تو کسی فیملی فرینڈ کے ساتھ ہی بھیجیں گے دیکھو اب کون جا رہا ہے۔۔اُنہوں نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا

ارے آپ مجھے کہتیں ابو اور میں بھی جا رہے ہیں ہمارے ساتھ بھیج دیجیے گا۔۔۔

اب اس نے چائے ۲ مگوں میں انڈیلی اور وہ دونوں مگ ٹرے میں رکھ دیئے ساتھ ہی تین منزلہ پیسٹری سرونگ ٹرے بھی اٹھا لی جس کی ایک منزل پر کپکیکس دوسری پر ڈونٹس اور تیسری پر براؤنیز سجی تھیں ۔۔جس صوفے پر آنٹی نیم دراز تھیں ںوہ ادھر ہی لے آئی تھی۔۔۔۔

آنٹی آپ اسے کیوں بھیج رہی ہیں پاکستان وہ یہاں بھی تو پڑھ سکتی ہے۔۔ وہ اب انکو چائے تھماتے ان کے پاس آ بیٹھی تھی

وہاں اسے اپنا کلچر تھوڑا دیں تھوڑی ہماری دنیا سمجھ تو اے گی۔۔ کر لے میٹرک پھر ادھر آ جائے۔۔۔ انہوں نے اٹھ کر سیدھے بیٹھتے ہوئے کہا

۵ سال پہلے آپ نے بھیجا ہے اسے اب مزید سال بعد وہ آئے گی کیسے ہی وہ یہاں پڑھ پائےگی نا وہ دوست نا وہ زبان نا وہ لوگ یہ تو اس کی زندگی تباہ کرنے والی بات ہے۔

اس نے سمجھانے والے انداز میں کہا، وہ جانتی تھی ہے یہ دیوار میں سر مارنے کے مترادف مگر چلو کوشش کر لیتے ہیں کیا پتہ کان پے جوں رینگ جائے

ہاں تو خیر ہے ہم نے کون سا اس سے نوکری کروانی ہے۔۔ اپنے گھر کی ہو جائگی جلد ہی

ماہ نور کے تو جیسے سر پر لگی تلووں میں بجھی۔۔۲۰۲۰ میں ایسی باتیں جہاں آدھی دنیا سے ختم ہی چکی تھیں اس کے خاندان میں ابھی بھی موجود تھیں

آنٹی آج کے دور میں صرف اپنے گھر کے لئے بیٹیوں کو بٹھانا عقلمندی نہیں۔۔ ایک ڈگری، کچھ شعور تو ہو نا کم از کم۔۔ اب اس سے زیادہ اس کے پاس الفاظ نہیں تھے کے کونسا بھیانک منظر پیش کرتی ان کے آگے کے وہ یہ ظلم نا کرتیں۔۔ وہ بس سوچ کر ہی رہ گئی تھی

پتہ نہیں کب ہمارے ما باپ کو سمجھ آئےگا کے بیٹیوں کو صرف بیاہ دینا کافی نہیں ہوتا جب وہ بیاہنا ایسا ہو کے ان کے پر کاٹ کے کسی جیل میں ڈال دیا گیا ہو

یہ تو اب تمہارے چاچو کا فیصلہ ہے جیسے وہ کہیں۔۔ تحریم نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔۔

آپ کی بھی اولاد ہے آپ کا بھی تو فیصلہ ہو۔۔ ماہ نور نے پھر سے کوشش کی تھی

اچھا میں تمہارے چاچو سے بات کرونگی اس معاملے میں۔۔۔ ضرور تم نے ہی رانیا کو بھی کہا ہے وہ بھی یہی رٹ لگائے بیٹھی ہے اب پاکستان واپس نہیں جائے گی۔۔

اچھا میں چلتی ہوں چاچو کو ٹکٹ بھیجنا وہ بھی اس کی تب کی ہی کروا دیں گے ۔

اُنہونے اٹھتے ہوئے کہا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حال

بینیڈورم کے rincon de loix کے علاقے میں واقع ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ کی ساتویں منزل پر مکان نمبر c سے آج صبح سویرے ہی میٹھی سویوں کی خوشبو اٹھ رہی تھی

اپارٹمنٹ میں داخل ہوتے ہی ایک نسبتاً مختصر راہداری سامنے آتی تھی، جس کے دونوں جانب دو باتھ رومز اور ان کے ساتھ دو بیڈرومز تھے۔ راہداری کے اختتام پر پہنچ کر وہ سیدھی کشادہ لاؤنج میں کھل جاتی تھی۔ دائیں جانب شیشے کا ایک دروازہ ٹیرس کی طرف کھلتا تھا، جبکہ اسی کے ساتھ اوپن کچن بنا ہوا تھا، جہاں سے صبح کے ناشتے کی خوشبو پورے اپارٹمنٹ میں پھیلی ہوئی تھی۔

کچن کاؤنٹر کے سامنے کھڑی ماہ نور نے اپنے بال جلدی سے سمیٹ کر کلپ میں جکڑ رکھے تھے۔ ایک ہاتھ میں چمچ لیے وہ پین میں مسلسل ہلا رہی تھی، کبھی آنچ ہلکی کرتی اور کبھی ڈھکن اٹھا کر اندر جھانک لیتی۔

لاؤنج میں رکھا ایل شیپ صوفہ تقریباً پوری دیوار گھیرے ہوئے تھا۔ اس کے ایک کونے میں حیات صاحب سفید شلوار قمیض پہنے بیٹھے تھے، جبکہ ان کی نیلی ویسکوٹ برابر میں سلیقے سے رکھی تھی۔ لباس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ عید کی نماز کے لیے تیار ہو چکے تھے، بس گھر سے نکلنے کی دیر تھی۔

اچانک سے گرینڈر کی آواز سارے اپارٹمنٹ میں گونج گئی تھی

بیٹا نا ڈالنا اتنے سوکھے میوے پتہ چلے سویّاں کم اور بادام پستہ زیادہ ڈال دیا ہے ۔ حیات احمد کو میٹھے میں زیادہ میوے بالکل پسند نہیں تھے۔

اچھا ابا نہیں ڈالتی، اب سوکھی سویّاں تو نہیں بنا سکتی نا

اس نے جھنجھلا کر کہا، ابّا اور ان کے pet peeves

بیٹا میں نماز پڑھ کر بویلنسیا جاؤنگا ائیرپورٹ وہاں سے آج ایک لڑکے کو لانا ہے ریسٹورنٹ کے لئے، لڑکا آج ہی آرہا ہے پاکستان سے ۔۔۔

تو آپ کیوں جا رہے ہیں، خود آ جائیگا یاں حمزہ بھائی کو بھیج دیں وہ لے آئیں گے

بیٹے وہ میرے قریبی دوست کا بیٹا ہے، اتنا تکلف تو کرنا ہی چاہیے ۔

حیات صاحب نے وضاحت دی

کونسے قریبی دوست، جو پاکستان ہیں ۔ماہ نور حیران ہوئی تھی، پچھلے اتنے سالوں میں اب وہ ان کی زندگی کے تمام پہلوؤں سے واقف تھی ایسے کسی دوست کا ذکر اس نے پہلے تو کبھی نہیں سنا تھا

آپ کو نہیں پتہ یونیورسٹی میں تھا میرے ساتھ ، کبھی ہم بڑے قریبی دوست ہوتے تھے

اچھا اچھا میں چلوں آپ کے ساتھ اس نے پوچھا تھا

’’نہیں، تم عید مناؤ سحر لوگوں کے ساتھ۔ میں دوپہر تک آ جاؤں گا۔‘‘

’’اچھا، وہ تو ٹھیک ہے، لیکن ابھی عید کی نماز پڑھنے تو جائیں گے نا؟ میں نے آپ کے لیے تڑکے والی سویاں بنائی ہیں، آپ کو پسند ہیں نا۔‘‘

ماہ نور کو اپنے باپ کی ہر پسند اور ناپسند معلوم تھی، اور وہ ہمیشہ اپنی پسند سے پہلے انہی کی پسند کو ترجیح دیتی آئی تھی۔ اپنے لیے اس نے فالودہ بنایا تھا۔ اب وہ سوچ رہی تھی کہ سحر بھی تو اسی بلاک میں تین منزلیں نیچے رہتے تھے، سو وہ فالودہ ان کے گھر دے آئے گی۔

حیات صاحب اٹھ کر نماز کے لیے چلے گئے تو وہ بھی فالودے کا ڈونگا اٹھا کر سحر کی طرف چل پڑی۔

تہواروں پر اسے ہمیشہ ایک عجیب سی وحشت محسوس ہوتی تھی۔ ایک نامعلوم سی اداسی، جو جانے کہاں سے آتی تھی اور پھر جان چھوڑنے کا نام نہیں لیتی تھی۔ زندگی اسے کہاں سے اٹھا کر کس موڑ پر لے آئی تھی، وہ خود بھی نہیں سمجھ پاتی تھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی آج صبح سے ہی وہ ایک عجیب سی بے دلی اور افسردگی میں گھری ہوئی تھی۔

بہت سی چیزیں، بہت سارے احساسات ختم ہو جانے کے باوجود، اس کے لیے وبالِ جان بن چکے تھے۔ بہت سے خواب تھے جو اس کے سامنے ریزہ ریزہ ہوئے تھے۔ اس نے تو کبھی ایسا نہیں سوچا تھا۔لفٹ کا دروازہ کافی دیر سے کھلا ہوا تھا، مگر وہ اپنی ہی سوچوں میں اس قدر گم تھی کہ اسے احساس ہی نہیں ہوا۔

’’آ بھی جاؤ یار! میں ناشتے کے لیے کب سے انتظار کر رہی ہوں۔‘‘

سحر اپنے اپارٹمنٹ کے دروازے کے سامنے کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔

’’آ گئی، بس۔ پتہ نہیں کہاں دھیان تھا۔‘‘ وہ پزل ہو گئی تھی

’’عید مبارک، جاناں ۔‘‘

اس نے سحر کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔ سحر اور وہ بہنوں جیسی تھیں، مگر ان کا ایک دوسرے کو ’’جانا‘‘ یا ’’بیگم‘‘ کہہ کر پکارنا ایک الگ ہی عادت تھی۔

سحر کا شوہر حمزہ، جو اس کا کزن بھی تھا، اسے اپنی سوتن کہہ کر پکارتا تھا۔ ان دونوں کا تعلق ہی کچھ ایسا تھا۔

ہوتا ہے نا ایک انسان آپ کی زندگی میں ایسا جو آپ کی زندگی کے ہر مرحلے میں آپ کے ساتھ کھڑا رہا ہو۔ ان دونوں کے لیے وہ انسان وہ تھیں ایک دوسرے کے لئے ۔

’’خیر مبارک، تمہیں بھی عید مبارک۔‘‘ سحر نے گھر کے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا۔

’’میں بھی سوچوں، میڈم آ کیوں نہیں رہیں! میں تو کب سے تمہیں بلانے آنے والی تھی۔ حمزہ عید کی نماز پڑھنے گئے ہیں، اب تو لیٹ ہی آئیں گے۔ میں تمہارے انتظار میں بیٹھی تھی۔ چنے بنائے ہیں، ساتھ کلچے ہیں تمہارے فیوریٹ۔۔ مل کر ناشتہ کرتے ہیں

’’چلو، یہ میٹھا میری طرف سے۔‘‘ ماہ نور نے فالودے کا ڈونگا اسے تھما دیا۔

’’ارے واہ! میں نے تو رس ملائی بنائی تھی حمزہ کے لیے، لیکن میرا اپنا بھی بہت دل کر رہا تھا فالودہ کھانے کا۔ اچھا کیا جو تم لے آئی۔‘‘ سحر نے خوش ہو کر کہا۔

وہ دونوں راہداری سے گزرتی ہوئی اب سحر کے اپارٹمنٹ کے لاؤنج میں آ گئی تھیں۔

سحر کا اپارٹمنٹ نسبتاً چھوٹا تھا، ایک ون بیڈروم اپارٹمنٹ۔ ویسے بھی آج کل بینیڈورم میں کرائے پر گھر لینا تقریباً ناممکن ہی تھا۔ ہاؤسنگ کا بحران تو پورے اسپین میں ہی تھا، مگر بینیڈورم تو ویسے بھی ایک سیاحتی شہر تھا۔ پچھلے چند برسوں میں یہاں کے کرائے میں تقریباً تین گنا اضافہ ہو چکا تھا، خاص طور پر جب سے Airbnb کا چرچا بڑھا تھا۔

’’تو پھر کیسی گئی پہلی عید میری دوست کی؟‘‘ صوفے پر بیٹھتے ہی ماہ نور نے سوال کیا۔ یہ اس کی شادی کے بعد پہلی عید تھی۔

’’بس ٹھیک ہی۔ امی ابو UK گئے ہوئے ہیں نا، تو بس تھوڑی سونی سونی سی ہے۔‘‘ سحر ایک دم اداس ہو گئی تھی۔

’’ارے، تو کیا ہوا؟ میں ہوں نا! تمہیں آنٹی کی اور حمزہ بھائی کی یا سسرال کی بھی کمی محسوس نہیں ہونے دوں گی۔‘‘ اس نے چھیڑے ہوئے کہا

’’ہاہاہا۔۔۔۔ا اچھا، حمزہ تو لیٹ آئیں گے۔ وہ شاید آج انکل کے ساتھ کسی کو لینے جائیں گے، بتا رہے تھے۔ اب عید تو تمہاری اور میری ہی ہوئی، کیا کیا جائے، تم بتاؤ۔‘‘ سحر دیکھ چکی تھی کہ ماہ نور ظاہر نہیں کر رہی تھی، مگر وہ اداس تو تھی۔

’’یارا، میرا دل نہیں ہے بالکل کسی بھی چیز کا۔ ناشتہ کرتے ہیں، پھر سوچتے ہیں کیا کرنا ہے۔‘‘ ماہ نور نے اچاٹ دل کے ساتھ کہا۔

’’کیوں ہے اتنی اداسی میری پھول جیسی دوست پر؟‘‘ سحر نے اسے غور سے دیکھا۔ ’’بالکل اچھا نہیں لگتا جب تم ایسے اداس ہوتی ہو، اور میں جانتی ہوں وجہ کیا ہے۔ چھوڑ دو نا ایک بات پر خود کو بلیم کرنا۔ لوگوں کی زندگیوں میں اس سے بڑے بڑے حادثے پیش آتے ہیں۔ زندگی ایک برے ایکسپیرینس سے ختم نہیں ہو جاتی۔ بہت سے اتار چڑھاؤ تو زندگی کا حصہ ہیں۔ تم خود پریشان ہوتی ہو، پھر انکل بھی ہو جاتے ہیں۔ ایسے کب تک اس کرب میں رہو گی؟ آزاد کر لو خود کو ان سوچوں سے۔ اور تم جانتی ہو، یہ کام صرف تم ہی کر سکتی ہو۔‘‘ اس نے رسان سے اس کے کندھوں کے گرد بازو پھیلاتے ہوئے کہا تھا

’’یارا، کاش میں کہہ سکتی کہ ہاں، میں کل سے نارمل ہو جاؤں گی۔ مجھے خود نہیں پتا میرے ساتھ کیا ہوتا جا رہا ہے۔ اور اب تو میں خود بھی خود سے نالاں ہوں، لیکن کچھ سمجھ نہیں آتا۔ کوئی کیسے شروع کرے یار، دوبارہ سے زندگی؟ پھر سے پڑھنے کیسے بیٹھوں میں اس کتاب کو جسے میں بہت پہلے بند کر چکی ہوں؟ کیسے میں پھر ایک نئے سفر پر گامزن ہوں؟ اور ہوں بھی تو کس امید سے؟ کیسے، جب زندگی سے کوئی خواہش، کوئی امید بچی ہی نہ ہو؟‘‘ وہ رو دینے کو تھی کے اچانک ہتھیلیوں سے آنسو پونچھتی وہ سحر کی طرف مڑی۔۔

’’اچھا، چھوڑو۔ اچانک یہ کیا غم اور دکھ کی باتیں شروع کر دیں آج تو اچھا دن ہے۔‘‘ ماہ نور نے فوراً بات بدلنے کی کوشش کی۔ سحر اب اسے لے کر پریشان ہو گی، اور یہ وہ نہیں چاہتی تھی۔

’’میری بات سمجھو، نورے۔ زندگی میں بہت سے موقعوں پر ہمیں لگتا ہے کہ ہماری زندگی ختم ہو گئی ہے، اب اس سے آگے کچھ نہیں ہے۔ مجھے تو حمزہ کی گاڑی ٹھوکنے پر بھی یہی لگا تھا کہ آج دنیا ختم ہے۔ مجھے تو جب تم مستقل پاکستان رہنے گئی تھیں، اس دن بھی لگا تھا دنیا ختم ہو گئی ہے۔

سحر ہلکا سا مسکرائی۔

’’ زندگی کا اصل اختتام صرف اور صرف موت ہے۔ اس سے پہلے جو کچھ ہے، وہ ہمارے لیے کسی نہ کسی بہتری کا سبب ہی بنتا ہے، چاہے آزمائش ہو یا سبق۔‘‘

وہ ایک لمحے کو رکی، پھر ماہ نور کا ہاتھ تھام لیا۔

’’تم امید ہارتی ہوئی اچھی نہیں لگتی ہو۔ تم تو وہ ہو جو لوگوں کو اندھیروں میں سے نکلنے کا راستہ دکھاتی ہے۔ خود کو اتنے اندھیرے میں کیسے چھوڑ سکتی ہو؟

مجھے لگتا ہے جو سب میرے اندر ہے وہ پھٹ جائے گا کسی دن۔۔ جتنا نقصان میں نے خود کا کیا ہے اتنا تو کوئی اور کبھی کر ہی نہیں سکتا۔۔میں خود کو معاف نہیں کر پا رہی۔۔میں آگے ہی نہیں بڑھ پا رہی اس چیز سے کے میں آج زندگی کے اُس مقام پے کھڑی ہوں جہاں میں نے تصور بھی نہیں کیا تھا خود کو۔۔میں تو خود سے ہی آئینے میں نظریں نہیں ملا پاتی مجھے کبھی کبھی احساس ہوتا ہے کے میرے ساتھ یہ سب اس لئے ہوا کیوں کے میں نے کسی کا بہت دل دکھایا ہے۔۔۔اسی لئے مجھے بھی اللّٰہ نے سب سے محروم رکھا، مجھے بھی چین نصیب نہیں ہوا۔۔“ ماہ نور اب زار او قطار رو رہی تھی ہچکیوں کے ساتھ۔

”تم نے کیسے سوچ لیا کے تمھاری مشکلات، تمہارا امتحان، تمہارا نصیب کبھی تمہاری سزا ہو سکتی ہے۔۔ جو اپنے اعمال پر شرمندہ ہوں اللّٰہ ان پر مہربان ہوتا ہے۔۔ جو اپنی غلطیاں سمجھیں اور انہیں نا دہرائیں اللّٰہ انہیں اپنے قرب سے آشنا کرتا ہے پھر تم نے کیسے سوچ لیا یہ سب تمہاری سزا ہے ہو سکتا ہے جو بھی ہوا ہو اللّٰہ نے اس سے کئی گنا بہتر لکھا ہو تمہارے لئے۔۔ ہو سکتا ہے یہ تمام مشکلات آنی ہی تھیں یہ سب شاید تمہاری خطاؤں سے پہلے ہی تہ پا گیا ہو۔۔ کیوں کے اگر یہ سب نا ہوتا تو شاید آنے والے کل کی تمہیں اتنی قدر نا ہوتی۔۔ تم نا امید نہیں ہو سکتی ماہ نور“۔ اس نے اسے شانوں سے پکڑ کر جھنجھوڑا ۔

”امید ہے تو سب کچھ ہے“ سحر نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا

ماہ نور کی آنکھوں سے ہنوز بڑے بڑے موتی بہہ رہے تھے جنہیں وہ نا جانے کتنے عرصے سے اپنے اندر لئے بیٹھی تھی۔۔ دل گرفتہ سی سحر بس اسکا چہرہ دیکھ کر رہ گئی تھی۔ بہت تکلیف ہوتی ہے اپنے پیاروں کو تکالیف سے گزرتے دیکھنا اور ان کے لئے کچھ کر نہ پانا۔۔ایسی کیفیت سے اس وقت سحر بھی دوچار تھی ۔

بعض دکھ ایسے ہوتے ہیں جن کے آگے تسلی کے الفاظ بھی بے معنی لگنے لگتے ہیں۔

”یہ لو۔۔ آنسو صاف کرو اور فٹا فٹ منہ دھو کر آو پھر ناشتہ کرتے ہیں“ اس نے صوفہ سے اٹھتے ہوئے کہا ۔۔

”اٹھو بھی نا۔۔ پھر آج ہم آنٹی سی بھی ملنے چلینگے“ سحر نے اس کو اب بازو سے پکڑ کر صوفے سے اٹھایا اور باتھروم کی طرف تقریباً دھکیلتی لے گئی۔

کچھ دیر بعد ماہ نور باتھ روم سے نکلی تو اس کی نظر میز پر پڑی

حلوہ پوری، کلچے، چنے کا سالن، آملیٹ، چائے اور پراٹھے... سب کچھ سلیقے سے سجا ہوا تھا۔ حتیٰ کہ معمولی سی چیز بھی ایسی نہ تھی جو بےترتیب دکھائی دیتی۔ سحر نے ہر چیز اس اہتمام سے رکھی تھی جیسے آج کوئی خاص دعوت ہو۔

ماہ نور نے چند لمحے میز کو دیکھا، پھر سحر کی طرف متوجہ ہوئی۔

’’تمہارے سسرال والے آ رہے ہیں؟‘‘

سحر نے ایک لمحے کو اسے دیکھا، پھر ہلکا سا مسکرا دی۔

’’نہیں۔ میں نے سوچا، ویسے ہی اہتمام کر لیا جائے... پھر شاید عید، عید جیسی محسوس ہو۔‘‘

آخری جملے میں جانے کہاں سے اترا ہوا ملال تھا۔ یہ بھی تو ایک الگ ہی قسم کی اداسی تھی۔

اپنوں سے دور رہ کر خوشیاں منانا۔

عید کے دن گھر تو وہی رہتا تھا، دسترخوان بھی سج جاتا تھا، کپڑے بھی نئے ہوتے تھے، مہندی کی خوشبو بھی آتی تھی... مگر اگر اپنوں کی آوازیں نہ ہوں تو خوشی کہیں نہ کہیں ادھوری رہ ہی جاتی تھی۔

وہ اب کرسی کھینچ کر بیٹھ چکی تھی۔ چہرہ ہنوز بھیگا ہوا تھا اور آنکھیں رونے کے باعث سرخ دکھائی دے رہی تھیں۔ سحر کے برعکس ماہ نور نے آج کپڑوں کا کوئی خاص اہتمام نہیں کیا تھا۔ سفید سادہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھی، کانوں میں چاندی کے چھوٹے سے جھمکے اور ناک میں ایک ننھی سی ہیرے کی لونگ تھی۔ یہ لونگ ماہ نور اور سحر نے یونیورسٹی جانے سے پہلے مل کر کروائی تھی۔ اسے آج بھی وہ دن یاد تھا۔

کس لڑکے کو لینے گئے ہیں؟ حمزہ بتا رہے تھے کسی لڑکے کو لینے ایئرپورٹ جانا ہے۔‘‘ سحر نے اسے چائے کا کپ تھماتے ہوئے پوچھا۔

پتا نہیں۔ مجھے تو کہہ رہے تھے کسی دوست کا لڑکا ہے۔ماہ نور نے کپ تھامتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔اب پتا نہیں یہ کہاں سے ان کے نئے نئے دوست برآمد ہو رہے ہیں مجھے تو نہیں معلوم۔‘‘

’’اچھا چھوڑو، تم یہ بتاؤ کہ انسٹاگرام ڈی ایکٹیویٹ کیوں کیا ہوا ہے تم نے؟ اب میں کس کو ریلز بھیجا کروں؟‘‘ سحر نے مصنوعی خفگی سے کہا۔

’’ہاں، جیسے ریلز دیکھنا تو بڑا ہی ثواب کا کام ہے نا۔‘‘ ماہ نور نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔

’’پھر بھی، ایسے کٹ کر تو نہیں جی سکتی تم۔‘‘ سحر اب اس کی پلیٹ میں کھانا ڈال چکی تھی اور ساتھ خود بھی کھانے لگی۔

ماہ نور کچھ دیر خاموش رہی۔ پھر نوالہ توڑتے ہوئے آہستہ سے بولی

’’میں سکون میں ہوں، جس دن سے میں نے سب کو کٹ آف کیا ہے۔‘‘

سحر نے ایک نظر اسے دیکھا، مگر کچھ نہیں کہا۔

مجھے فرق نہیں پڑ رہا اب کہ کون اپنی زندگی میں کتنا خوش ہے، کس کے پاس کتنے ڈیزائنر بیگز ہیں، کس کا گھر کیسا ہے…‘‘ وہ ذرا رکی۔ ’’اور وہ لوگ جنہوں نے مجھے دکھ دیے، وہ اپنی زندگی میں کتنے مگن ہیں۔‘‘

اس نے نوالہ منہ میں رکھا اور چند لمحوں بعد نظریں پلیٹ پر جھکا دیں۔

’’مجھے احساسِ محرومی سے بچنا تھا۔‘‘

اس نے سحر کی طرف دیکھا۔ ان آنکھوں میں اب بھی دنیا جہان کا رنج ٹھہرا ہوا تھا۔

مجھے نہیں جاننا تھا کہ کون کس ملک میں کیا کر رہا ہے، کس کی زندگی کتنی پرفیکٹ ہے۔ وہ ہلکا سا مسکرائی

پتا ہے کہ یہ سب سو فیصد سچ نہیں ہوتا۔ سب کے اپنے مسئلے ہوتے ہیں۔ لیکن میں اب یہ سوچنا نہیں چاہتی کہ لوگوں کی ان پرفیکٹ نظر آنے والی زندگیوں کے پیچھے کیا چل رہا ہے۔ اس لیے ڈیلیٹ کر دیا۔‘‘

سحر خاموشی سے سنتی رہی۔

’’اب میرا لاک اِن کرنے کا وقت ہے۔‘‘ ماہ نور نے بے اختیار ہنستے ہوئے کہا۔ ’’مجھے اپنی زندگی کا چارج واپس لینا ہے۔ بہت سے کام کرنے ہیں۔‘

اس نے چائے کا ایک گھونٹ لیا۔

’’پھر میں بھی کروں گی انسٹاگرام پر فلیکس…‘‘

اس بار اس کی مسکراہٹ کچھ زیادہ واضح تھی۔

کھانا تو بڑا مزے کا ہے، شکریہ یارا اتنے اہتمام کے لئے۔۔ اس نے سادگی سے کہا

یہ کیا، شکریہ وغیرہ چھوڑو یہ بتاؤ کے کریں کیا آج۔۔۔سحر کو عید منانی تھی

کروز پر چلیں گے تھوڑی دیر میں، ادھر sun set دیکھیں گے پھر ماریانو پر ڈنر کرینگے پھر پلایا پر۔ ماہ نور نے سارہ پلان ترتیب دے دیا تھا

مگر اس کے لئے ضروری ہے کی ابھی تم مجھے جانے دو، میرے ۲ پراجیکٹس کی ڈیڈلائن آج ہے۔۔

تو ادھر ہی لے او نا Mac، بلکہ میں لے آتی ہوں خودی۔۔ ویسے تو تمہیں عام روٹین میں بھی پروجیکٹس کی پرواہ نہیں ہوتی۔۔۔لیکن عید والی دن جی کام ہے۔۔واہ رے واہ۔۔ سحر کے اندر کی امّا جاگ چکی تھی

بتایا تو ہے۔۔ LOCK IN کر لیا ہے اب بس کام اور صرف کام۔ ماہ نور نے اب اس کے صوفے پر لیٹتے ہوئے کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریم آنٹی کے جانے کے بعد وہ آج مسلسل کچن میں لگی ہوئی تھی۔ تین چار ڈشز تیار کرکے اس نے گلاس کنٹینرز میں ڈال کر فریج میں رکھ دی تھیں۔ پورے اپارٹمنٹ میں اس وقت آلو گوشت کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ کچن کاؤنٹر کے سامنے والی دیوار پر ٹی وی لگا تھا، جس پر اس نے صبح سویرے ہی سورۃ البقرہ لگا دی تھی۔ یہ بھی اس کے معمول کا حصہ تھا۔

سالن میں چمچہ چلا کر وہ واشنگ مشین سے کپڑے نکالنے گئی ہی تھی کہ اچانک فون کی گھنٹی بج اٹھی۔

’’ہیلو؟‘‘

اس نے فون کو دیکھے بغیر کان سے لگایا۔ وہ نجانے کب سے کاؤنٹر کے اوپر پڑا تھا۔

اٹھی ہو؟‘‘ دوسری طرف سے سحر کی آواز آئی۔

ہاں، بس کھانا بنا رہی تھی۔۔۔ تم بتاؤ، آج کال کیسے؟‘‘ ماہ نور نے حیرت سے پوچھا۔ عام طور پر سحر اسے کال نہیں کرتی تھی۔ اسے فون کالز سے ویسے ہی خاصی نفرت تھی۔

’’میرے میسجز تم دیکھ ہی نہیں رہی تھیں تو پھر مجھے کال ہی کرنی پڑی۔‘‘

’’ہاں یار، میں نے سوچا آج گھر کے کام ختم کرلوں۔ سارا ویک اسی میں گزر جاتا ہے کہ ویک اینڈ پر کرلوں گی، تو بس آج انہی میں مصروف ہوں۔‘‘ ماہ نور نے واشنگ مشین سے کپڑے نکالتے ہوئے کہا۔

’’میں نے کال یہ بتانے کے لیے کی تھی کہ آج کا پلان کینسل ہے۔ برو، امی نے مسرت آنٹی کی طرف جانا ہے۔ ادھر کوئی دعوت ہے اور میری شامت آئی ہے کہ ساتھ چلوں، ساتھ چلوں۔‘‘

’’تو چلی جاؤ نا۔ میں کروز پر اکیلی چلی جاؤں گی، یا ہو سکتا ہے میں بھی بس گھر ہی رہوں۔‘‘ ماہ نور نے کہا اور کپڑے تہہ کرکے ڈرائر میں ڈالنے لگی۔

’’اچھا چلو۔ پھر سوموار کو ملاقات ہوتی ہے۔ آ جانا، ٹرام کے لیے ٹائم پر۔‘‘ سحر نے اسے یاد دہانی کرائی۔

ماہ نور بہت کچھ ہو سکتی تھی، لیکن وقت کی پابند نہیں۔ یہ اس کے بس سے باہر تھا۔ اگر اس کی ٹرام سات بجے نکلنی ہوتی تو وہ سات بج کر پانچ منٹ پر گھر سے نکل رہی ہوتی۔

وہ ہر روز جلدی اٹھتی تھی کہ آج لیٹ نہیں ہونا، اور ہر روز ہی لیٹ ہوتی تھی۔

’’ٹھیک ہے، چلو۔ خدا حافظ۔‘‘

اس نے فون کان سے ہٹایا، مگر سحر کا خدا حافظ کہنا مکمل ہونے سے پہلے ہی کال کاٹ دی۔

فون واپس کچن کاؤنٹر پر رکھ کر وہ وہیں پڑی چیئر کھینچ کر بیٹھ گئی۔ دونوں ہاتھ سر میں دیے وہ کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی۔ اس کے چہرے سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ پریشان تھی۔

صبح سے کاموں میں لگی ہونے کے باوجود ہارون اس کے ذہن سے محو نہیں ہوا تھا۔ وہ ایک عجیب سی کشمکش میں مبتلا تھی۔

ساری غلطی، سارا قصور اسی کا اپنا تھا۔

آخر اس نے خود کو ان جھمیلوں میں ڈالا ہی کیوں تھا؟ اپنے تجسس کے ہاتھوں اس نہج تک پہنچنے کی اسے کیا ضرورت تھی؟

صبح سے وہ یہی سب سوچ کر پچھتا رہی تھی۔

’’مجھے اسے اسٹاک کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔‘‘

وہ سر پکڑے بڑبڑائی۔

اتنی باتیں، اتنے ٹیکسٹ کیوں کیے میں نے؟ میں کیوں آپے سے باہر ہو گئی؟ میرا مقصد تو صرف جان پہچان کی حد تک تھا۔۔۔ پھر میں نے اپنی حد کیوں پار کی؟

اب نہ میں اسے سچ بتا سکتی ہوں، نہ اس جھوٹ کو مزید آگے لے جا سکتی ہوں۔

اوہ میرے خدا۔۔۔ میں کیا کروں؟

اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنے بالوں کو پیچھے کیا اور بے بسی سے آنکھیں بند کر لیں۔

تین ماہ پہلے جب اس نے وہ پاکستانی یوتھ والا گروپ جوائن کیا تھا تو صرف ہارون کی وجہ سے کیا تھا مگر بات یہاں تک پہنچ جائے گی، یہ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا۔وہ چاہتی تو ہارون کو سچ بتا سکتی تھی۔

لیکن سچ بتانے کا مطلب تھا اسکی نظروں میں گر جانا۔ اور یہ سبکی وہ برداشت نہیں کر سکتی تھی۔اچانک اس کی نظر گھڑی پر پڑی۔

ظہر کی نماز کا وقت ختم ہونے میں زیادہ دیر نہیں تھی۔

وہ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔ وضو کیا، جائے نماز بچھائی اور نماز کے لیے کھڑی ہو گئی۔

اس کے ذہن میں چلنے والے سارے سوال اپنی جگہ تھے، مگر ایک بات وہ ہمیشہ سے جانتی تھی۔

جب کوئی راستہ سمجھ نہ آئے تو اللہ کے سامنے بیٹھ جانا چاہیے۔

اپنی بہت سی بری عادتوں میں سے ماہ نور کو اپنی سب سے بری عادت یہی لگتی تھی کہ وہ نماز ہمیشہ وقت ٹال کر پڑھا کرتی تھی۔ دو ہزار بیس کی ریزولوشنز میں سب سے اوپر بھی اسی عادت کو رکھا تھا کہ اب اسے بدلنا ہے۔

آج بھی وہ آخری وقت میں کھڑی ہوئی تھی۔

کمرے میں گہرا سکوت تھا۔

مرون نماز کی چادر میں ڈھکا اس کا چہرہ نماز کے دوران غیر معمولی طور پر پرسکون لگ رہا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ نماز مکمل کرتی رہی۔ پہلے دائیں جانب سلام پھیرا، پھر بائیں جانب۔

اور اگلے ہی لمحے جیسے اس کے اندر بند کوئی چیز ٹوٹ گئی۔

وہ دوبارہ سجدے میں چلی گئی۔

’اللہ۔۔۔‘‘ بس ایک لفظ نکلا اور آواز بھرّا گئی۔

اس کے آنسو جائے نماز میں جذب ہونے لگے۔ ’’میں پھر آ گئی ہوں آپ کے پاس۔‘‘

’’مجھے معاف کر دیں۔۔۔ میں نے غلط کیا ہے۔‘‘

’مجھے نہیں پتا میں کیا کروں، اللہ۔ آپ تو سب جانتے ہیں۔۔۔ آپ کو تو سب پتاہے کہ میں نے یہ سب کیوں کیا تھا۔ لیکن غلط تو پھر بھی غلط ہے نا؟‘‘

اس کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئی۔

’’میں اسے سچ بھی نہیں بتا سکتی۔۔۔ اور جھوٹ بھی نہیں بولنا چاہتی۔ مجھے اس سے کوئی فائدہ نہیں چاہیے تھا۔۔۔ بس۔۔۔‘‘

’’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ بات اتنی آگے چلی جائے گی۔‘‘

مجھے اپنے وقار سے نیچے مت گرنے دینا، اللہ۔ میری عزت رکھ لینا۔‘‘

’’میں کیسے کر سکتی ہوں ایسا؟‘‘ ’’مجھے تو اپنا آپ کبھی کمزور لگا ہی نہیں تھا۔ امی کے جانے کے بعد بھی نہیں۔۔۔ جب یہ پورا گھر اکیلے سنبھالنا پڑا، تب بھی نہیں۔ مجھے ہمیشہ لگتا تھا کہ میں مضبوط ہوں۔۔۔ پاک باز ہوں۔۔۔‘‘

’’مجھے لگتا تھا میں نے کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا۔ کبھی کسی کو دھوکا نہیں دیا۔ ہمیشہ دوسروں کا پردہ رکھا۔۔۔‘‘

اس کے ہونٹ کانپے۔

’’پھر میں نے یہ کیوں کیا؟‘‘

’’یا اللہ۔۔۔ جس کا دل میں نے دکھایا ہے، اس کے دل میں میرے لیے معافی ڈال دیں۔‘‘

’’اور مجھ سے غلطی ہو گئی ہے پلیز مجھے صحیح راستہ دکھا دیں۔۔۔۔‘‘

اللہ سے بات کرنا ہی تو شروع سے اسے ہر مشکل سے نکالتا آیا تھا۔

اسے دنیا سے مدد مانگنا ہمیشہ مشکل لگا تھا، مگر اللہ کے سامنے اپنے دل کی کوئی بات چھپانا کبھی نہیں آیا تھا۔

جب سب راستے بند ہو جاتے تھے، وہ اسی در پر آ بیٹھتی تھی۔آج بھی وہ اسی در پر تھی۔

فرق صرف اتنا تھا کہ آج پہلی بار اسے اپنے مسئلے سے زیادہ، اپنے آپ سے شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

of 1

Comments (0)

Sign in to join the conversation.

  • No comments yet.